loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
16-Jul-2026
30-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
16-Jul-2026
30-Muharram-1448

کہانی لکھی امتیاز علی نے اور پروڈیوس کیا سمیر نائر، دیپک سیگل، موہت چودھری اور سبھاش سرکار نے۔ نغمہ نگار ہیں ارشاد کامل اور موسیقی تخلیق کی ہے موسیقی کے بے تاج بادشاہ اے آر رحمٰن نے ۔مرکزی کردار ادا کیا، نصیر الدین شاہ، دلجیت دوسانجھ،ویدانگ رائنا، شرواری واگھ ۔

کہانی کا پس منظر برصغیر کی تقسیم جہاں ہجرت کے آزار کو ہجر کے آنسوؤں سے رقم کیا گیا۔ نصیر الدین شاہ کی ادکاری تو ہمیشہ ہی تبصرے سے اوپر کی چیز ہے مگر کینو کے روپ میں نوجوان ویدانگ رائنا نے ہمیں زیادہ متاثر نہیں کیا۔ سچی بات ہمیں رائنا اور شرواری میں کوئی خاص کیمسٹری نظر نہیں آئی ۔ اس فلم میں نصیر الدین شاہ، دلجیت دو سانجھ کے بعد صرف دو کرداروں نے متاثر کیا ،کینو کی بہن پھلوا کہ دونوں بھائی بہن کے مابین اچھی کیمسٹری تھی، اگر فلم میں ان کے دو چار سین اور ہوتے تو فلم مزید مضبوط ہوتی۔ فلم میں دادی کا رول مختصر پر بہت زود اثر تھا۔ میرے حساب سے اگر امتیاز علی، جیا اور کینو کے رشتے کے بجائے کینو کو اپنے خاندان کے لیے زیادہ سنجیدہ دیکھاتے اور کہانی کے پہلو بہ پہلو پھلوا اور آفتاب کی محبت اور آفتاب کا پھلوا کو بچانے کی کوششوں میں جان سے گزرنا زیادہ جاندار ہوتا۔

کینو اپنے خاندان کی عورتوں کی تلاش میں سرگودھا واپس لوٹتا ہے اور وہاں اس پر یہ روح فرسا انکشاف ہوتا ہے کہ پھلوا اغوا کی جاچکی ہے اور خاندان کی باقی تمام کی تمام عورتیں دادی کے خنجر کی دھار پر واری  گئیں ۔ کینو کی محبوبہ پناہ کی تلاش میں اب کسی کی عزت بن چکی ہے۔ کتنا اچھا ہوتا اگر امتیاز علی ایک سین کا اضافہ کر دیتے جس میں کینو برسوں بعد بھی کسی کیمپ، کسی بستی یا کسی رجسٹر میں اپنی بہن کا پھلوا کا نام ڈھونڈ رہا ہوتا اور اس تلاش و جستجو میں پورے برصغیر کی بچھڑی ہوئی عورتوں کی داستان سمٹ آتی۔ دادی کا مختصر ترین کردار تھا مگر اس قدر دل دہلا دینے والا کہ پانچ دن گزرنے کے بعد بھی میرے اعصاب پر سوار ہے ۔

دل گرفتہ کینو ہندوستان واپس لوٹ آتا ہے اور بے حسی کے ساتھ کاروبارِ دنیا میں مصروف بھی مگر کہتے ہیں ناں

دل جہاں ٹھہرا تھا وہیں ٹھہرا رہا

سو، نو دہائیاں گزارنے کے باوجود کینو کا دل ابھی بھی جیا عرف ملکہ دلفریب کی یاد میں ہمکتا ہے ۔ اب جب کہ وہ ڈیمنشیا کا شکار بھی تو ماضی رہ رہ کر پلٹتا ہے اور کینو کا ضمیر و دل دونوں یکساں بےکل۔ اس کا جملہ

” حساب تو دینا ہو گا، قرض تو چکانہ پڑے گا”

بہت طاقتور ہے ۔ کاش ہم لوگ  “ہجوم ” کی سوچ سے باہر نکل سکیں کہ لمحے کا جنون صدیوں کا سزاوار۔

View this post on Instagram

A post shared by @7777.edits

اس فلم میں نئی نسل کو دردمند دکھایا گیا جو کہ درست بھی۔ گو کہ دادا اور پوتے میں کوئی ایسی قربت نہ تھی پھر بھی دادا کی بے بسی پوتے کے دل کو چھو لیتی ہے اور دلجیت، دادا کو جیا سے رخصت لینے کے لیے سرگودھا میں ماضی کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔

امتیاز علی نے زمین، خاندان اور محبت کو بڑی خوبصورتی سے مربوط کیا اور نتیجے میں ناظرین کو ایک حساس فلم ملی۔

ارشاد کامل کے نغمے اور اللہ رکھا رحمان کی موسیقی میں ترتیب پائے نغموں نے جادوگری تو خیر نہ کی ماسوائے دو نغموں کے ۔ فلم کا آخری گانا بلاشبہ کمال، جسے دلجیت دو سانجھ کی آواز اور پسِ منظر میں دنیا بھر کے مہاجروں کی چلتی بےبس ڈاکومنٹری نے انسانیت کے دل کا زخم بنا دیا ۔ میرے لیے پوری فلم ایک طرف اور دلجیت کا لاجواب گانا ” کیا کمال ہے” ایک طرف ۔ گانے کے پسِ منظر میں چلتی بے خانماں مہاجروں کی ڈاکومنٹری کا منظر جکڑ لینے والا ہے۔ خاص کر ان ناظرین کے لیے جو ہجرت کے درد آشنا ہیں ۔

اس منظر نے ہمیں ایسا باندھا تھا کہ فلم کے مکمل طور پر ختم ہو جانے کے بعد بھی میرے میں کرسی سے اٹھنے کی سکت نہ تھی اور میرے آنسو رکتے نہ تھے۔ دلجیت نے ہمیشہ میرا دل جیتا مگر اس گانے کے بعد تو میرا پسندیدہ ترین رہا۔

امتیاز علی مبارک باد کے مستحق کہ اس حساس موضوع کو انہوں نے عدل کے ساتھ نبھایا۔ جہاں سکھوں کی بربریت دکھائی وہیں مسلمانوں کا ظلم بھی نہیں چھپایا ۔ سب سے بڑی بات انڈیا میں رہتے ہوئے انہوں نے آخری سین میں جو مہاجرین کی ڈاکومنٹری دیکھائی، اس میں سر فہرست غزہ کو رکھا۔

ایک حساس فلم کے لیے شکریہ امتیاز علی اور گانا” کمال ہے” کی شاعری، موسیقی اور آواز کے لیے ارشاد کامل، اے آر رحمان اور دلجیت دو سانجھ بہت بہت شکریہ ۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں