loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
16-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
16-Jul-2026
29-Muharram-1448

وہ تمام اپنے بشمول دوسرے لوگ جو ہم اسپیشل نیڈز والدین کو اپنے بظاہر سچے لفظوں سے زخمی کرتے ہیں، یا ہماری زندگیوں کو اپنی زندگیوں کے ترازو میں تولنے کی کوشش کرتے ہیں…

ان سے بہت احترام کے ساتھ ایک گزارش ہے

اگر آپ ایک نیوروڈائیورجنٹ (Neurodivergent) بچے کی پرورش نہیں کر رہے، تو پھر ہمارے دن کے چوبیس گھنٹے اور آپ کے دن کے چوبیس گھنٹے ایک جیسے نہیں ہیں۔

یقیناً بچوں کی پرورش اور تربیت کسی کے لیے بھی آسان کام نہیں۔ ہر کوئی اپنی جگہ محنت کرتا ہے، قربانیاں دیتا ہے، راتیں جاگتا ہے اور اپنی اولاد کے لیے فکر مند رہتا ہے۔

لیکن کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی نسبت کہیں زیادہ کٹھن، طویل اور تنہا ہوتے ہیں۔

آپ اپنے بچے کی ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد کہیں بھی آ جا سکتے ہیں۔ بغیر کسی منصوبہ بندی کے کہیں سیر کو نکل سکتے ہیں۔ کسی ریسٹورنٹ میں سکون سے بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ کسی تقریب میں جا سکتے ہیں۔ اور کسی ایمرجنسی میں صرف دس منٹ کے اندر گھر سے نکل سکتے ہیں۔

انسان ہیں، زندگی میں غمی بھی آتی ہے، خوشی بھی آتی ہے، بیماریاں بھی آتی ہیں، ذمہ داریاں بھی بڑھتی ہیں۔

مگر ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کی پوری زندگی مسلسل تھراپی کے لیے اپائنٹمنٹس، سینسری اوورلوڈ ، ایک لگی بندھی روزمرہ کی روٹین، محدود غذائی انتخاب، نیند کے مسائل، جذباتی بے ترتیبی، معاشی جدوجہد، معاشرتی رویوں اور اس مستقل ذہنی دباؤ کے گرد گھومتی ہے کہ دن شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے بچے کے حساب سے دن کو کیسے ترتیب دیا جائے۔

ہم میں سے کچھ والدین گھر سے نکلنے سے پہلے دروازوں کے لاک سے زیادہ اپنے بچے کے موڈ کو دیکھتے  ہیں چاہے جانا کتنا بھی ضروری کیوں نہ ہو۔۔اگر ہمارا بچہ پریشان ہے تو ہمیں جانا کینسل کرنا پڑتا ہے۔۔ہم راستوں کا انتخاب ٹریفک دیکھ کر نہیں بلکہ  (Triggers) دیکھ کر کرتے ہیں۔

ہم کسی دعوت یا تقریب میں جانے سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں کیا پہننا ہے، بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ  اگر وہ شور برداشت نہ کر سکا، اگر اس نے خود کو یا کسی اور کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو کیا ہوگا؟اور اس سے پہلے کہ کوئی کہے “لو اس میں ایسا کیا ہے ۔۔ سب والدین ہی ایسا کرتے ہیں…”

تو میری بات غور سے پڑھیے…ہر والدین اس درجے کی ذمہ داری نہیں اٹھا رہے ہوتے۔ہر والدین اپنی جوان ہوتی اولاد کے ساتھ اس خوف سے نہیں جیتا کہ کہیں وہ اچانک ہاتھ چھڑا کر  سڑک پر نہ نکل جائے۔ہر والدین گھر میں موجود ہر چیز کو ممکنہ خطرہ سمجھ کر نہیں دیکھتے ۔چھری… سوئچ بورڈ… ریموٹ… دروازوں کی کنڈیاں… ماچس…کسی پین کا ڈھکن۔۔ چھوٹا سا پیچ یا کیل… راستے میں پڑا جوتا… یہاں تک کہ ڈائپر میں موجود گندگی بھی…یہ سب بعض اوقات ایسی چیزیں بن جاتی ہیں جن پر مسلسل نظر رکھنی پڑتی ہے۔یہ کوئی مقابلہ نہیں۔

ہمیں یہ تو یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی نہیں کہ ہماری مشکلات دوسروں سے زیادہ ہیں۔یہ صرف ایک یاددہانی ہے کہ والدین ہونے کی ذمہ داری ہر گھر میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔کچھ بوجھ آنکھوں کو دکھائی دے جاتے ہیں، اور کچھ صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جو انہیں ہر روز اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔ہم انہی تھکے ہوئے کندھوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔اپنے بچوں کے لیے لڑتے ہیں۔ان کے حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ان کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں۔ان کی خاموش زبان سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور پھر دنیا ہم سے اپنی صلاحیت، اپنی محبت اور اپنی برداشت کا ثبوت بھی مانگتی ہے۔

لوگ ہمیں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں:چچ چچ چچ…” “بےچاری…” “ہائے ہائے…”مگر کاش وہ یہ بھی دیکھ سکیں کہ انہی “بےچاروں” نے کتنی بار ٹوٹ کر خود کو دوبارہ جوڑا ہے۔کتنی بار آنسو پونچھ کر مسکرانا سیکھا ہے۔کتنی بار ناامیدی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلایا ہے۔اور کتنی بار اپنے بچے کی ایک چھوٹی سی کامیابی کو پوری دنیا کی سب سے بڑی خوشی سمجھ کر سینے سے لگایا ہے

اس لیے اگلی بار جب آپ کسی اسپیشل نیڈز والدین کو دیکھیں تو ترس کی نگاہ سے مت دیکھیے۔مشوروں کی بوچھاڑ مت کیجیے۔صرف تھوڑا سا احترام، تھوڑی سی مہربانی اور تھوڑی سی سمجھ عطا کر دیجیے۔کیونکہ بعض جنگیں ایسی ہوتی ہیں جو شور نہیں کرتیں۔وہ خاموشی سے لڑی جاتی ہیں۔ہر دن… ہر رات… ہر سانس کے ساتھ…اور ان جنگوں کے سپاہی اکثر وہ والدین ہوتے ہیں جنہیں دنیا صرف “بےچارا” کہہ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بےچارے نہیں ہوتے…وہ تھکے ہوئے ضرور ہوتے ہیں، مگر ہارے ہوئے نہیں۔وہ زخمی ضرور ہوتے ہیں، مگر کمزور نہیں۔اور اپنے بچوں کے لیے ان کی محبت اتنی گہری ہوتی ہے کہ اگر محبت کو شکل دی جا سکتی، تو شاید دنیا کی مضبوط ترین چیز ایک اسپیشل نیڈز والدین کا دل ہوتا۔”ہم ترس نہیں چاہتے، ہم سمجھ چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی آزمائش ہی ہماری سب سے بڑی محبت بھی ہے۔”

One Response

  1. I am Sufferung with this same situation. This blog represents feelings and struggles of parents having autistic child

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں