سندھ حکومت نے 2011 کے بل میں کچھ بنایدی ترامیم کی ہیں ۔ جس کے مطابق اب جعلی انوائسنگ پر جرمانہ 10 لاکھ روپے کا ہوگا اور ٹیکس معلومات کو خفیہ رکھاجائےکا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ۔
نیا فنانس بل سندھ اسمبلی سےمنظوری کےبعد 1 جولائی 2026سےنافذ العمل ہوگاسندھ حکومت نے یکم جولائی سےشروع ہونےوالےمالی سال کےلیے ٹیکس فری بجٹ دیاہے تاہم کچھ ٹیکسوں میں ردوبدل کیاگیاہےفنانس بل کےمطابق سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2011 میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں”. جن میں رجسٹریشن ختم کرنے کی مدت 3 ماہ سے بڑھا کر 180 دن کر دی گئی ہے، جبکہ کاروبار بند ہونے کے باوجود ماضی کی ٹیکس ذمہ داریاں برقرار رہیں گی “
سندھ فنانس ایکٹ کےمطابق جعلی یا قواعد کے برخلاف چلنے والے انوائسنگ سافٹ ویئر پر سخت کارروائی کی گئی ہے۔ ایسے سافٹ ویئر تیار یا فراہم کرنے والوں پر کم از کم ایک1 لاکھ اور زیادہ سے زیادہ دس 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا.جبکہ رجسٹرڈ کاروباری افراد کو کمشنر کی ہدایت پر اپنے کاروباری مراکز میں ٹیکس آگاہی سے متعلق نوٹس اور معلومات نمایاں طور پر آویزاں کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹیکس سے متعلق انکوائری کو 60 دن کے اندر مکمل کرنا ضروری ہوگا۔
اپیلوں کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے اور بعض صورتوں میں پیشگی ادائیگی کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر دی گئی ہے۔ ٹیکس معلومات کو سخت رازداری میں رکھنے کی شق شامل کی گئی ہے. تاہم وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان قانونی ضرورت کے تحت معلومات کے تبادلے کی اجازت برقرار رکھی گئی ہے۔
فنانس بل میں مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹ اور نئی شرحوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ زرعی و غذائی اجناس میں اب صرف غیر پراسیس شدہ اناج، تازہ سبزیاں اور پھل ٹیکس چھوٹ کے زمرے میں آئیں گے۔

تعلیمی شعبے میں وہ ادارے ٹیکس چھوٹ کے اہل ہوں گے جہاں سالانہ فیس 5 لاکھ روپے سے کم ہو، بیوٹی اور فزیکل ویل بینگ سروسز پر 8 فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔
ریڈی مکس کنکریٹ، ڈریجنگ اور مٹی و ریت کی صفائی جیسی خدمات پر بھی 8 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جبکہ پراپرٹی ڈویلپرز کے لیے فی مربع گز اور فی مربع فٹ کے حساب سے فکسڈ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر بالترتیب 2 اور 3 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ قانونی خدمات اور ٹیکس کنسلٹنسی سمیت بعض پیشہ ورانہ خدمات پر 8 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔
سندھ زرعی آمدنی ٹیکس ایکٹ 2025 میں بھی ترامیم کی گئی ہیں، جن کے تحت زرعی آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر 8 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے کم آمدنی پر کوئی سپر ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
بل میں ٹیکس نظام کو زیادہ مؤثر بنانے، شفافیت بڑھانے اور ریونیو میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد انتظامی اور قانونی اصلاحات بھی شامل کی گئی ہیں۔
بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات صوبے میں ٹیکس نظام کو معقول بنانے اور مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔سندھ کابینہ مجوزہ سندھ فنانس ایکٹ کی منظوری دےچکی ہے سندھ اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث مکمل ہونےکےبعد فنانس بل ایوان میں پیش کیاجائےگا اور شق وار منظوری لی جائے گی