غربت سے عالمی شہرت تک کا سفر
پیرس: 2026 فیفا ورلڈ کپ میں فرانس کی قومی ٹیم کے نمایاں کھلاڑی عثمان ڈیمبیلے اپنی غیر معمولی رفتار، شاندار ڈربلنگ اور دونوں پیروں سے یکساں مہارت کے باعث دنیا کے خطرناک ترین فارورڈز میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انہیں یعنی دونوں پیروں سے یکساں مہارت رکھنے والا سپارک کہا جاتا ہے۔ تاہم ان کی کامیابی کا سفر صرف فٹبال تک محدود نہیں بلکہ ایک محنتی تارکین وطن خاندان، مسلسل جدوجہد اور مشکلات پر قابو پانے کی متاثر کن داستان بھی ہے۔
عثمان ڈیمبیلے 15 مئی 1997 کو فرانس کے شہر ورنون میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام ماسور عثمان ڈیمبیلے ہے۔ ان کے والد کا تعلق مغربی افریقی ملک مالی سے جبکہ والدہ کی جڑیں موریطانیہ اور سینیگال سے ملتی ہیں۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں ان کا خاندان فرانس منتقل ہوا، جہاں محدود وسائل کے باوجود والدین نے اپنے بچوں کی تعلیم اور کھیلوں پر خصوصی توجہ دی۔
ڈیمبیلے ایک سادہ اور محنت کش ماحول میں پروان چڑھے۔ ان کے والد روزگار کے لیے سخت محنت کرتے تھے، جبکہ والدہ فاطمہ ڈیمبیلے نے ان کے فٹبال کیریئر میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ روزانہ عثمان کو ٹریننگ کے لیے لے جاتیں، ان کی خوراک، نظم و ضبط اور تعلیم پر نظر رکھتیں۔ عثمان کئی انٹرویوز میں اعتراف کر چکے ہیں کہ اگر ان کی والدہ کی قربانیاں نہ ہوتیں تو شاید وہ آج عالمی سطح کے فٹبالر نہ بن پاتے۔
بعد ازاں وہ فرانس کے معروف کلب رین کی اکیڈمی میں شامل ہوئے۔ 2015 میں صرف 18 سال کی عمر میں انہوں نے رین کی سینئر ٹیم سے پیشہ ورانہ فٹبال کا آغاز کیا۔ ان کی شاندار کارکردگی نے یورپ کے بڑے کلبوں کی توجہ حاصل کی، اور صرف ایک سیزن بعد جرمنی کے معروف کلب بوروسیا ڈورٹمنڈ نے انہیں اپنے ساتھ معاہدہ کر لیا۔

بچپن ہی سے عثمان کو فٹبال سے بے حد لگاؤ تھا۔ وہ گھنٹوں گلیوں اور مقامی میدانوں میں کھیلتے رہتے تھے۔ ان کی رفتار، گیند پر کنٹرول اور دونوں پیروں سے کھیلنے کی صلاحیت نے مقامی کوچز کو حیران کر دیا۔ ابتدا میں انہوں نے ایوریکس ایف سی کی یوتھ اکیڈمی میں تربیت حاصل کی،
عثمان ڈیمبیلے کی سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ وہ دونوں پیروں سے یکساں مہارت کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔ وہ دائیں یا بائیں کسی بھی جانب سے حملہ کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے دفاعی کھلاڑیوں کے لیے انہیں روکنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ان کی برق رفتار دوڑ، شاندار ڈربلنگ، درست پاسنگ اور غیر متوقع انداز انہیں دنیا کے بہترین ونگرز میں شامل کرتا ہے۔صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں۔
ڈورٹمنڈ میں ڈیمبیلے نے اپنی رفتار، ڈربلنگ اور گول بنانے کی صلاحیت سے شائقین کو متاثر کیا۔ انہوں نے جرمن کپ جیتنے میں اہم کردار ادا کیا اور یورپ کے ابھرتے ہوئے بہترین نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے۔
2017 میں ہسپانوی کلب بارسلونا نے انہیں تقریباً 105 ملین یورو میں خرید لیا، جو اس وقت فٹبال کی تاریخ کے مہنگے ترین ٹرانسفرز میں شمار ہوتا تھا۔ تاہم بارسلونا میں ان کا سفر آسان نہ رہا۔ متعدد سنگین انجریز نے انہیں کئی ماہ تک میدان سے دور رکھا۔ ناقدین نے ان پر تنقید بھی کی، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ہر بار واپسی کی کوشش جاری رکھی۔
2023 میں ڈیمبیلے نے پیرس سینٹ جرمین میں شمولیت اختیار کی، جہاں ان کے کیریئر کو نئی زندگی ملی۔ انہوں نے اپنی فارم دوبارہ حاصل کی، اہم گول اسکور کیے، ساتھی کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا کیے اور ٹیم کی کامیابیوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔
فرانس کی قومی ٹیم کے لیے بھی عثمان ڈیمبیلے ایک اہم کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے 2016 میں بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا اور 2018 فیفا ورلڈ کپ جیتنے والی فرانسیسی ٹیم کا حصہ رہے۔ 2022 کے ورلڈ کپ میں بھی فرانس کو فائنل تک پہنچانے میں ان کا اہم کردار تھا۔
2026 فیفا ورلڈ کپ میں بھی ڈیمبیلے بہترین فارم میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ناروے کے خلاف گروپ مرحلے کے ایک اہم میچ میں انہوں نے فرسٹ ہاف میں ہیٹ ٹرک کر کے فرانس کو 4-1 کی کامیابی دلائی۔ اس شاندار کارکردگی نے انہیں ٹورنامنٹ کے نمایاں ستاروں میں شامل کر دیا اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ بڑے مقابلوں کے کھلاڑی ہیں۔
آج عثمان ڈیمبیلے لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں۔ ایک تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھنے والا یہ لڑکا اپنی محنت کی بدولت دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیجز تک پہنچا۔