تازہ خبر یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کولمبو میں ٹریک 1.5 کے تحت بات چیت ہوئی ہے۔ یہ ایک بڑا بریک تھرو ہے۔ ہمیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ جے ڈی وینس نے سوئزرلینڈ میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے دن مذاق میں بھی انڈیا اور پاکستان کا نام کیوں لیا۔
ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ ایک معنی خیز بات کہنے جارہے ہیں ۔ انھوں نے کہا ہے کہ میری زندگی میں دو شخصیات اہم ہیں۔ ان میں ایک بھارتی ہے اور دوسری پاکستانی۔بھارتی کے لئے انھوں نے اپنی اہلیہ اوشا کا نام لیا ۔ جوبھارت نژاد ہیں۔ جے ڈی وینس کے لیے ان کی اہمیت کیا ہو سکتی ہے، محتاج بیان نہیں۔ دوسری شخصیت پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہے۔
جے ڈی وینس نے یہ بات کیوں کہی؟ بظاہر تو یہی محسوس ہوتا ہے یہ خوش گوار ماحول میں ہونے والی گپ شپ ہے۔ یہ تاثر درست ہے۔ اتنی اعلیٰ سطح پر ہونے والی ملاقاتوں میں ایسی گپ شپ ہو جاتی ہے۔ با ضابطہ بات چیت سے قبل خاص طور پر اور بات چیت خوش گوار انداز سے جا رہی تو دوران گفتگو کوئی ایک آدھ جملہ اور اختتام پر وقت رخصت بھی۔ جے ڈی وینس کے یہ جملے بھی اسی روایت کی پیروی میں ہیں۔
یہ درست ہے کہ ایسے خوش گوار جملوں کا تبادلہ فی البدیہہ ہوتا ہے لیکن اکثر اوقات ایسی بات چیت فی البدیہہ نہیں بھی ہوتی۔ فریقین پہلے سے طے کر کے آتے ہیں کہ انھوں نے اس ملاقات میں براہ راست کیا پیغام دینا ہے اور بالواسطہ کیا۔ کچھ عجب نہیں کہ جے ڈی وینس نے اس گفتگو میں بھی کوئی پیغام دیا ہو۔ یہ پیغام کیا ہو سکتا ہے؟ یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، انھیں پیش نظر رکھا جائے تو بات صاف ہو جاتی ہے۔ نریندر مودی کے شدت پسند دور میں یہ تعلقات مسلسل غیر مستحکم ہوئے ہیں۔ قوموں کے درمیان تعلقات میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بات چیت کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے۔ یوں کشیدگی کنٹرول ہو جاتی ہے لیکن مودی کے غیر دانش مندانہ رویے نے بات چیت کا راستہ بند کر دیا ہے۔ دنیا اس سے پریشان ہے۔
گزشتہ پاک بھارت جنگ کے دوران میں دنیا کی پریشانی میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ عالمی ذرائع ابلاغ پر آنے والی وہ خبریں تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ بھارت نے اس جنگ کے دوران اپنے ایٹمی اثاثے متحرک کر دیے تھے۔ قریب تھا کہ بھارت پاکستان پر ایٹمی حملہ کر دیتا کہ امریکا متحرک ہو گیا۔ بھارت کی طرف سے ایک اور اشتعال انگیز قدم انڈس واٹر ٹریٹی کی یہ طرفہ طور پر معطلی ہے۔ پاکستان اس معاملے کو جنگ ہی تصور کرتا ہے۔ گویا بھارت کے تین اقدامات ہیں جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
1- مکالمے کا خاتمہ
2- دوران جنگ ایٹمی حملے کی تیاری
3- انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی
بھارت کے ان اقدامات سے عالمی امن خطرے سے دوچار ہو چکا ہے۔ غیر یقینی کی اس صورت حال کو دنیا زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتی۔ دنیا کیا خود بھارت کے اندر اس پر تشویش محسوس کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بھارت کے انتہا پسند بھی اس کا دباؤ محسوس کرنے لگے ہیں۔
مودی حکومت کے امن دشمن اقدامات بھارت کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کی پریشانی اور ان کی طرف سے ممکنہ طور پر بڑھتا ہوا دباؤ ہی ہے جس کی وجہ سے آر ایس ایس جیسی انتہا پسند کے سیکریٹری جنرل دتا تریا ہوسا بالے سے یہ کہلوایا گیا ہےکہ اب پاکستان سے سفارتی روابط شروع کیے جائیں۔
ایک طرف بھارت کولمبو میں میز پر بیٹھنے پر مجبور ہے ۔ وہیں ان مذاکرات کو ایک جھوٹی خبر بنانے پر تلا ہوا ہے۔ وہ ہی حیلے بھانے ۔
جبکہ ہمارے دفتر خارجہ سے اس پر کوئی تفصیلی جواب نہیں دیا لیکن مقامی میڈیا سایٹ نے ان مذاکرات کی تصدیق کی ہے ۔ جس میں حکومتی اور دیگر اداروں نے وفد کی شکل میں مذاکرات میں شرکت کی ہے۔
اس پس منظر میں امریکی حکومت کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔ برگن اسٹاخ سمٹ کے موقع پر جے ڈی وینس کی طرف سے پاکستان کے لیے محبت کا اظہار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے بے پناہ پسندیدگی اور اسی سانس میں بھارت کا ذکر بے معنی نہیں ہے۔ یہ پیغام ہے اس بات کا کہ پاکستان اور بھارت کو پڑوسی ہونے کے ناتے ایک دوسرے سے مفر نہیں ہے لہٰذا موجودہ تعطل دور ہونا چاہیے۔ انھوں نے پاکستان اور فیلڈ مارشل کے لیے بے پناہ پسندیدگی کا عندیہ دے کر بھارت کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ معقولیت کا راستہ اختیار کرے۔
جے ڈی وینس کے متذکرہ دلچسپ کلمات کا جائزہ سفارتی روایات کی روشنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہی ہے۔ اس لیے مستقبل قریب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان روابط کی بحالی کے لیے کسی طرف سے سلسلہ جنبانی شروع ہو جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔