سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں ’برقع الجنیہات‘ خواتین کے چہرے کے پردے (سکوں سے مزین نقاب) کی ایک منفرد اور روایتی شکل ہے۔
سعودی خبر ایجنسی کے مطابق سکوں سے مزین نقاب کی تیاری کے لیے عام طور پر قیمتی سیاہ یا سرخ کپڑے کا استعمال کیا جاتا ہے جس میں آنکھوں کو کھلا رکھا جاتا ہے جبکہ اس کے اگلے حصے کو سونے یا چاندی کے سکوں کے ساتھ نفاست سے
سکوں سے مزین کیے جانے کے باعث اسے ’برقع الجنیہات‘ کا نام دیا گیا اور اسی نام سے اس کی شناخت ہوتی ہے۔
لگائے جانے والے سونے یا چاندی کے سکے محض آرائشی اور زیبائش کے لیے نہیں تھے بلکہ یہ سکے ان خواتین کی بچت اور ذاتی استعمال کے زیوارت تھے جس کا استعمال کسی اہم تقریب میں کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں ’برقع الجنیہات‘ کو سماجی حیثیت، مالی خوشحالی اور خوبصورتی کی علامت بنا دیا گیا جسے پہن کر تقریب میں شرکت کرنے والی خواتین کے اسٹیٹس کا پتہ چلتا۔
یہ ماضی میں مکہ مکرمہ کے روایتی لباس میں شامل ہوا کرتا تھا جس سے ان خواتین کی مالی حیثیت اور معاشرتی اقدار کی عکاسی ہوتی تھی۔مکہ مکرمہ کے کاریگر اسے تیار کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ سکوں کو اس مہارت سے لگایا کرتے تھے کہ ان کا توازن برقرار اور نمایاں رہے۔
آج بھی ایسے خاندان موجود ہیں جن کے پاس ماضی کی یہ یادگار نسل در نسل محفوظ چلی آ رہی ہیں جو ایک قیمتی اور گراں قدر ثقافتی ورثہ مانا جاتا ہے۔