پہلی قسط: دنیا کے ادب کا ایک انوکھی مثال جس میں دو ادیبوں نے ایک ہی کہانی کو الگ الگ انداز میں جاری رکھا۔
جیسے کوئی دریا بہتے بہتے دو مختلف حصوں میں تقسیم ہو جائے اور اس کے بعد الگ الگ دھاروں میں سمندر کی جانب سفر جاری رکھے، بالکل ایسا ہی اردو کی ایک کہانی کے ساتھ ہوا جو نہ صرف اردو فکشن بلکہ شاید بین الاقوامی فکشن کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہ سہی، انوکھا معاملہ ضرور ہے۔
یہ کہانی بھی کوئی عام کہانی نہیں بلکہ ’امبربیل‘ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 1970 کے عشرے میں اردو دنیا کی سب سے مقبول کہانی تھی جس کا ہر مہینے دسیوں لاکھ لوگ شدت سے انتظار کیا کرتے تھے۔
’امبربیل‘ کو دو مختلف ادیبوں نے لکھنا شروع کیا تھا، پھوٹ پڑنے کے بعد دونوں نے اپنے اپنے انداز میں اسی کہانی کو آگے بڑھایا۔
اس واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ ’امبربیل‘ سب رنگ ڈائجسٹ میں شائع ہونے والی ایک سلسلے وار کہانی ہے جو جون 1974سے لے کر مارچ -اپریل 1980 تک قسط وار چھپتی رہی، اور اپنے رولر کوسٹر پلاٹ، تند و تیز مکالموں، دھواں دار ایکشن اور مار دھاڑ سے بھرپور سنسنی خیز مناظر، رومانی ذیلی پلاٹس اور حقیقت میں دیومالا کے تڑکے کی بنا پر اردو پڑھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا گئی اور ہر مہینے اس کی اگلی قسط کا انتظار کرنا دوبھر ہو گیا۔
پھر سب رنگ کے پرچوں کا درمیانی وقفہ بڑھنے لگا۔ قارئین واویلا مچاتے رہے مگر ماہنامہ سب رنگ سہ ماہی، شش ماہی اور پھر سالنامہ بنتا چلا گیا۔ آخر 1980 میں ’امبربیل‘ کا سلسلہ یک قلم ٹوٹ گیا۔ اس کی وجہ سب رنگ کے مدیر شکیل عادل زادہ نے یہ بتائی کہ وہ دنیا کے مقبول ترین اردو پرچے کے مدیر کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ ہر شمارے میں دو مستقل سلسلے نہیں لکھ سکتے۔ (دوسرا سلسلہ ’بازی گر‘ تھا جو ’امبربیل‘ ہی کی طرح مقبول تھا۔)
جب ’امبربیل‘ بند ہوا تو اس زمانے میں سب رنگ کی اشاعت ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ غالباً آج تک کسی اردو رسالے، پرچے اور اخبار کو وہ والہانہ قبولیت اور دیوانہ وار پذیرائی نہیں ملی جو سب رنگ کے نصیب میں آئی۔ اپنے دور کے چوٹی کے ادیب اس میں چھپنا اعزاز سمجھتے تھے۔ ایک پوری نسل عالمی ادب کے سرخیل ادیبوں سے سب رنگ کے 104 پرچوں کی وساطت سے روشناس ہوئی: چیخوف، موپساں، ٹالسٹائی، کافکا، پشکن، ماہم، جیک لنڈن، ایڈگر ایلن پو، سٹیونسن، مارک ٹوین، ایچ ایچ منرو، نجیب محفوظ، اور بہت سے دوسرے۔ دوسری طرف اردو کے لگ بھگ تمام اہم ادیب مثلاً منٹو، بیدی، غلام عباس، اشرف صبوحی، سید رفیق حسین، نیر مسعود، کرشن چندر، عصمت چغتائی، شوکت صدیقی، احمد ندیم قاسمی، بلونت سنگھ، ابوالفضل صدیقی، عبدالستار صدیقی، ممتاز مفتی، اشفاق احمد، حاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، سید محمد اشرف، نیلوفر اقبال وغیرہ سب رنگ میں شائع ہو کر کروڑوں لوگوں تک پہنچے۔
’امبربیل‘ کے تعطل کے ساتھ ہی شکیل صاحب نے وعدہ کیا کہ جلد ہی اس لڑی کو دوبارہ وہیں سے جوڑ دیا جائے گا جہاں سے یہ ٹوٹی تھی۔ یہ بھی کہا کہ اس کی اگلی قسطیں لکھ لی گئی ہیں، مگر لوگ سر مارتے رہے، اگلی قسط کو پھر سب رنگ کا منھ دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔
آخر لگ بھگ دو عشروں بعد پتہ چلا کہ کسی انوار صدیقی نے مارچ 2001 میں’امبربیل‘ کو کتابی شکل میں چار حصوں میں شائع کروا دیا ہے، جس کے کل صفحات کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے قریب بنتی ہے۔
مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو اچنبھا ہوا کہ یہ انوار صدیقی کہاں سے آن دھمکے؟
سب رنگ میں جب ’امبربیل‘ شائع ہوتا تھا اور اس پر کسی مصنف کی بجائے کہانی کے راوی یعنی میرجمشید عالم کا نام درج ہوتا تھا۔ ہم سمیت بہت سے ’آشفتگانِ سب رنگ‘ سمجھتے تھے کہ یہ شکیل عادل زادہ کی تصنیف ہے، کیوں کہ انداز ہوبہو اسی آوازِ پا کا تھا۔ بعد میں کئی جگہ چھپا کہ انوار صاحب کچا پکا مسودہ بھیجتے تھے، شکیل اسے ری رائٹ کر کے چھاپتے تھے۔ انوار صدیقی کی کتاب میں عین مین وہی ڈائجسٹ والا متن ہے، مزید یہ کہ انوار صدیقی نے پیش لفظ میں چند عجوبہ باتیں لکھی ہیں، جن میں یہ تردید بھی شامل ہے کہ ’امبربیل‘ میں ان کے علاوہ کسی اور کا بھی قلم لگا ہے۔ وہ کہتے ہیں 19ویں قسط تک میں خود لکھتا رہا، پھر ’کارواں سے الگ ہو گیا۔‘ مزید لکھا کہ ’وہ دانشور جو ’امبربیل‘ کو مکمل کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے بہت جلد تھک کر بیٹھ گئے، پسینے پسینے ہو گئے۔ لشتم پشتم تین چار قسطوں کا مرچ مصالحہ قارئین کی نگاہوں میں جھونکا گیا، پھر سارا طنطنہ ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔‘
انوار صدیقی صاحب کا دعویٰ جو بھی رہا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’امبربیل‘ کی تخلیق کی کہانی بھی اسی کی طرح گنجلک ہے۔ ’عاشقِ سب رنگ‘ حسن رضا گوندل صاحب کے مطابق شروع کی چند قسطیں انوار صاحب نے ضرور لکھیں، اس کے بعد ہر قسط کے لیے پانچ افراد پر مبنی ایک منڈلی سر جوڑ کر بیٹھتی اور اگلی قسط کے تانے بانے بنتی تھی، جس میں مدیر سب رنگ کے علاوہ انوار صدیقی، حسن ہاشمی اور دو دوسرے احباب ہوا کرتے تھے۔ یہاں جو خاکہ بنتا تھا، انوار صاحب اسے لکھ کر لاتے تھے، جسے مدیر سب رنگ شکیل عادل زادہ سنوار سدھار نکھار کر شائع کر دیتے تھے۔ یہ سلسلہ 19ویں قسط تک جاری رہا، لیکن پھر انوار صاحب اپنا مرغا بغل میں داب کر الگ ہو گئے۔ جاتے جاتے یہ کہتے گئے کہ ’اس میں تو میرا کچھ رہا ہی نہیں۔‘ اس کے بعد کی قسطیں پوری کی پوری شکیل عادل زادہ نے لکھیں۔
اب کلامِ شاعر بزبانِ شاعر بھی سن لیجیے: شکیل عادل زادہ نے ایک انٹرویو میں بتایا، ’امبربیل شروع انہوں نے (یعنی انوار صاحب نے) ضرور کی تھی، بعد کی سب میں نے لکھی۔ سنا ہے انہوں نے کسی پبلشر سے 90 ہزار روپے لے کر اس کی آخری قسط لکھ دی اور اس کے پیش لفظ میں میری برائی بھی کی۔ میں نے ان کا مسودہ اور اپنا مسودہ محفوظ کیا ہوا ہے۔ ہم تو اسے پورا پورا ری رائٹ کیا کرتے تھے۔ ایک بار ناراض ہو کر انہوں نے پیسے بھی واپس کر دیے تھے کہ اگر تم لکھتے ہو، تو میں پیسے کیوں لوں۔ یہ بھی ثبوت ہے۔‘
گوندل صاحب کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق 19ویں قسط تک کل 456 صفحے بنتے ہیں، جب کہ اس کے بعد بھی امبربیل 11 قسطوں تک چلتی رہی۔ قسطیں کم سہی، لیکن بعد کی قسطیں زیادہ طویل ہوتی گئی تھیں۔ جہاں پہلے پندرہ بیس صفحے کی قسط ہوا کرتی تھی، انوار صاحب کی علیحدگی کے بعد یہ سلسلہ پچاس ساٹھ صفحوں تک درازہوتا چلا گیا، بلکہ ایک قسط تو 111صفحوں تک پھیل گئی۔ اس طرح شکیل صاحب کے لکھے گئے صفحات کی تعداد 550 کے قریب بنتی ہے، جب کہ یہ صفحے بھی بڑے ہیں اور ان میں سطروں کی تعداد بھی پہلے سے زیادہ ہے۔ اس طرح ایک محتاط اندازہ لگایا جائے تو انوار صاحب کے دور میں اور بعد میں 60:40 کی شرح بنتی ہے۔ اس طرح انوار صاحب کا یہ دعویٰ ’ٹائیں ٹائیں فش‘ ہو جاتا ہے کہ ’میر کارواں لشتم پشتم تین چار قسطوں کا مصالحہ قارئین کی آنکھوں میں جھونک کر ہانپ گئے تھے۔
انوار صاحب کی تحریر ری رائٹ کیوں ہوتی تھی؟ اس کی وجہ شکیل صاحب نے یہ بتائی:’ مجھے لگا کہ ان کا ذخیرہ الفاظ محدود ہے۔ نئی نئی کیفیات کے لیے نئے نئے الفاظ ہونے چاہییں۔‘
اور وہ نئے الفاظ کیا ہیں؟ یہ الفاظ اور ان کی مدد سے تراشی گئی کیفیات امبربیل میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں۔ خاص طور پر اس کے مصنفین معاملاتِ حسن و عشق میں خوب کھل کھیلتے ہیں:
’ایک طرف پارو تھی، ، دوسری طرف شاردا۔ ایک نسترن تھی تو دوسری سوسن، ایک ساون تھی، دوسری بھادوں، ایک رتن جوت تھی، ایک رکت چندن۔ کمرے میں ان کی سانسوں کی خوشبوئیں گھل گئیں۔ میں سوچنے لگا اگر پارو اور شاردا کا عطر کشید کیا جائے تو کیسا نشاط انگیز ہو گا۔ ایک میں بھینی بھینی خوشبو ہو گی، ایک میں کچھ تیز۔‘
)یہاں اگر آپ کو مشہور جرمن فلم ’پرفیوم‘ یاد آ جائے جس ہیروئن کا عطر نکالا جاتا ہے (محاورتاً نہیں، سچی مچی) تو اس میں آپ کا یا مصنفین کا قصور نہیں کہ یہ فلم بہت بعد یعنی 2006 کی پیداوار ہے۔(
’سندھیا وہ سویرا تھا جو بس اب روشن ہوا چاہتا تھا۔ صبحِ صادق، بند کلی، آم کے درخت پر لٹکی ہوئی کیری جس کا رنگ بدل رہا ہو اور شاخ جھکی جاتی ہو۔ وہ الھڑ لڑکی، اس کے بدن نے آٹھویں جماعت پاس کر لی تھی اور وہ اتنی تیزی سے زندگی کے سبق پڑھ رہی تھی کہ اسے بےساختہ داد دینے کو جی چاہتا تھا۔‘
’اس کے لبوں پر ایک لطیف مسکراہٹ۔ ۔ ۔ غزل خواں ہوئی۔‘
لیکن یاد رہے کہ جمشید بزم ہی کا نہیں، رزم کا بھی کھلاڑی ہے۔ اس لیے ایک معرکے کا بھی احوال دیکھ لیجیے جس میں وہ ایک اندھیرے باغ میں راجکماری انیتا کو چیخنے سے روکنے کے لیے اس کا منھ بند کیے ہوئے حملہ آوروں کے قریب آنے کا منتظر ہے:
’اتنے میں وہ اور نزدیک ہوتے گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کا میں شدت سے منتظر تھا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میرے پستول سے دونوں گولیاں ایک ساتھ نکلی ہوں۔ اتنی تیزی اور برجستگی سے کہ اگر انیتا کا منھ کھلا ہوتا تو داد دیے بغیر نہ رہتی۔‘
پھر متکلم جگہ جگہ زندگی کے مختلف معاملات پر گہرا فلسفیانہ مگر دلچسپ تبصرہ بھی کرتا چلا جاتا ہے کو تحریر ختم ہونے کے بعد دیر تک کانوں میں گونجتا رہتا ہے:
’موت کے پاس جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ زندگی کے پاس بہت سے کھلونے ہوتے ہیں۔ زندگی بڑی قطامہ ہے۔ بی جمالو ہے۔ زندگی رنڈی کا کوٹھا ہے، راجے پور کا چمکتا دمکتا بازار ہے۔ زندگی ایک دوشیزہ ہے جس کے پستان بڑے ہیں اورکمر پتلی ہے اور جس کی عادت خراب ہے اور جو اپنے چمکیلے بدن کی ایک جھلک دکھا کر روپوش ہو جاتی ہے۔‘
’سٹیئرنگ پر بیٹھ کر آدمی بالکل بدل جاتا ہے۔ اس کا چہرہ گمبھیر ہو جاتا ہے، جیسے وہ کوئی بڑا کام انجام دے رہا ہے۔ ۔ ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے پیروں کے بجائے چار پہیے نکل آئے ہیں۔ ۔ ۔ سٹیئرنگ کے گول پہیے پر دنیا کا گمان ہوتا ہے گویا دنیا ہاتھ آ گئی ہے۔ ۔ ۔ گاڑی میں بیٹھ کر آدمی دگنا ہو جاتا ہے۔‘
یہ طنطنہ، یہ کس بل، یہ شوخی، یہ رکھ رکھاؤ، یہ انداز، یہ لگاوٹ چھت پر چڑھ کر اعلان کر رہے ہیں کہ پردے کے پیچھے کون معشوق ہے۔ یہ تحریر شکیل عادل زادہ کے علاوہ کسی کی نہیں ہو سکتی۔ ایک تو اس کا موازنہ سب رنگ ہی میں چھپنے والے ایک اور دلگداز سلسلے ’بازی گر‘ سے کیا جا سکتا ہے اور صاف پتہ چلتا ہے کہ دونوں سلسلوں کا راقم ایک ہی ہے۔ دوسری طرف یہی طرزِ بیان سب رنگ کے شروع میں چھپنے والے ’ذاتی صفحہ‘ کا ہے جو باقاعدہ طور پر شکیل صاحب کے نام سے چھپا کرتا تھا۔
میں نے انوار صدیقی صاحب کا ناول ’طاغوت‘ کو بھی جستہ جستہ دیکھا (دل پر پتھر رکھ کر)، اور ان کا امبربیل کا تحریر کردہ آخری حصہ پڑھا (ناک پر رومال رکھ کر، مگر وہ قصہ کچھ دیر بعد)، ان دونوں تجربات سے نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہ تھا کہ ان حضرت کا ’امبربیل‘ کی تحریر سے اتنا ہی لینا دینا بنتا ہے جتنا اوپر بیان کردہ مرغے کی بانگ کا سورج کے طلوع ہونے میں عمل دخل ہوتا ہے۔
داخلی اور خارجی شواہد کی روشنی میں جو خاکہ ابھرتا ہے وہ میں آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔
’امبربیل‘ کا بنیادی خیال انوار صاحب کا تھا، اور شروع کی تین چار پانچ قسطیں بھی زیادہ تر انہی نے لکھیں، لیکن جب یہ سلسلہ مقبول ہو گیا تو پھر شکیل عادل زادہ کو خیال آیا کہ اس پر زیادہ محنت ہونی چاہیے، چنانچہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ ری رائٹ کرنا شروع کر دیا۔ یہ سلسلہ انیس قسطوں تک جاری رہا جس کے بعد انوار صاحب کارواں سے بچھڑ گئے، اور بقیہ ساری قسطیں مکمل طور پر شکیل صاحب کے پاس آ گئیں۔
لیکن اس کے بعد سب رنگ کی اشاعت میں لمبے لمبے وقفے آنے لگے، کیوں کہ بقول شکیل صاحب کے اب وہ رسالے کی ترتیب و تشکیل پر بہت زیادہ محنت کرنے لگے تھے جس کی وجہ سے پرچے کی باقاعدگی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ شکیل صاحب ’بازی گر‘ کے ساتھ ’امبربیل‘ پر بھی بہت زیادہ، بلکہ ضرورت سے زیادہ سر کھپاتے تھے۔ یہ مشقت ’اوور رائٹنگ‘ کی صورت میں جگہ جگہ نظر آنے لگی۔ اب یہ کہانی خارج کی بجائے داخل پر زیادہ مرکوز ہونے لگی۔ پہلے ہر صفحے پر کوئی نئی واردات، کوئی تازہ معرکہ، کوئی نیا معاشقہ، کوئی نیا موڑ آتا تھا جو قاری کو افتاں و خیزاں ساتھ ساتھ بھگائے رکھتا، سانس پھلائے رکھتا تھا، اب کہانی کے دس دس صفحے ایک خیال کو ٹٹولتے پھرولتے گزرتے ہیں ور پلاٹ ہے کہ دور گھٹنوں میں سر دیے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے کہ مصنف صاحب کو پہلے ذرا عبارت آرائی سے فرصت ملے تو میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھوں۔
پہلے اگر ایک پیراگراف چھوٹ جائے تو کہانی کا سرا ہاتھ سے جاتا رہتا تھا، آخری قسطوں میں یہ ہونےلگا کہ دس دس ورق پلٹ جائیے، کہانی وہیں کی وہیں صم بکم دیوار کے سائے میں بیٹھی ملے گی۔
بہت خوب
یہ تمام حقائق 💯 درست ہیں۔
شکیل عادل زادہ صاحب کی خدمات پر میں نے حال ہی میں ایم فل کا مقالہ بعنوان “شکیل عادل زادہ: شخصیت اور فن ۔ بازی گر کے تناظر میں” لکھا ہے یہ تمام حقائق تحقیق کے دوران میری نظروں سے گزرے ہیں اور یہ باتیں میرے مقالے کا حصہ ہیں۔
جی بہت اچھی تحریر ہے۔۔ہم نے کبھی سب رنگ نہیں پڑھا۔۔۔ لیکن اب دل چاہ رہا ہے