کراچی: سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) نے مالی سال 2025-26 میں محصولات کی وصولی کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 370 ارب روپے سے زائد ریونیو جمع کر لیا ہے۔ ایس آر بی کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال میں وصولیوں میں 20.17 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سندھ ریونیو بورڈ کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں ٹیکس وصولیوں میں تاریخی بہتری دیکھنے میں آئی، جبکہ مجموعی ریونیو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
ایس آر بی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی مد میں وصولیاں بڑھ کر 344.6 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جو صوبائی محصولات میں سب سے بڑا حصہ ہے۔ بورڈ کے مطابق خدمات کے شعبے میں ٹیکس وصولی میں مسلسل بہتری ٹیکس نظام کی مؤثر نگرانی اور ڈیجیٹل اقدامات کے باعث ممکن ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ کی وصولیوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد بہتری آئی۔
ایس آر بی نے کہا کہ کم معاشی نمو اور علاقائی کشیدگی جیسے چیلنجز کے باوجود ریونیو وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بورڈ کے مطابق اس کامیابی کا کریڈٹ عملے کی محنت، حکومت سندھ کے تعاون اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف جون 2026 میں سندھ ریونیو بورڈ نے 45.08 ارب روپے کی ریکارڈ ماہانہ وصولی کی۔ جون کی یہ وصولیاں مئی کے مقابلے میں 28.3 فیصد زیادہ رہیں، جس سے صوبائی ریونیو میں مزید اضافہ ہوا۔
سندھ ریونیو بورڈ کے مطابق زرعی آمدنی ٹیکس کی مد میں بھی پہلی مرتبہ ایک ارب روپے سے زائد کی وصولی کی گئی، جو صوبے کے ٹیکس نظام میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
سندھ ریونیو بورڈ کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال میں ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے، رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کے رجحان کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل نظام کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق صوبائی محصولات میں اضافہ ترقیاتی منصوبوں، عوامی سہولیات اور مالی خودمختاری کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس نظام میں شفافیت، آسان طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے مزید افراد اور کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
سندھ ریونیو بورڈ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں وصولیوں میں مزید بہتری کے لیے اصلاحات جاری رکھی جائیں گی اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
ایس آر بی کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بہتر انتظامی حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر نگرانی کے ذریعے صوبائی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔