loader-image
Karachi, PK
temperature icon 31°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 31°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

لاہور :  سپریم کورٹ آف پاکستان نے وراثت سے متعلق ایک اہم فیصلے میں ہبہ کے دعوؤں کے لیے واضح قانونی اصول مقرر کرتے ہوئے 71 برس بعد دو خواتین وارثوں کو ان کے آبائی وراثتی حقوق بحال کر دیے۔جسٹس شاہد  بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد نے اپنے 14 صفحات پر مبنی فیصلے میں کہا  کہ ٹرائل کورٹ  نے  بنیادی نکار  ت کو نظر انداز کیا ۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں  کہا  کہ محض زبانی دعویٰ یا غیر مصدقہ دستاویزات کی بنیاد پر ہبہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ہبہ کو قانونی طور پر مؤثر ثابت کرنے کے لیے اس کی واضح پیشکش، قبولیت اور جائیداد کا حقیقی قبضہ منتقل ہونا ضروری ہے۔یاد رہے سن 55 میں  باپ کے مرنے کے بعد دونوں بھائیوں نے  یہ کہہ کر وراثت اپنے نام کرا لی تھی والد نے انہیں  یہ حبہ کر دی تھیں ۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ وراثتی حقوق سے خواتین کو محروم کرنے کے لیے ہبہ کے قانون کا غلط استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اگر ہبہ کے دعوے کو مضبوط اور قابل اعتماد شواہد سے ثابت نہ کیا جا سکے تو ایسی جائیداد وراثتی قوانین کے مطابق تمام قانونی وارثوں میں تقسیم کی جائے گی۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں