کراچی: گلستانِ جوہر میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے تعمیر کیا جانے والا منور چورنگی انڈر پاس مقررہ ڈیڈ لائن 30 جون 2026 تک مکمل نہ ہو سکا، جس کے باعث شہریوں کو منصوبے کے افتتاح کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔
منصوبے کا مقصد منور چورنگی پر ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی لانا اور یونیورسٹی روڈ، گلستانِ جوہر، اسکیم 33 اور اطراف کے علاقوں کے درمیان سگنل فری آمدورفت کو ممکن بنانا ہے۔ یہ انڈر پاس کراچی کے مصروف ترین چوراہوں میں سے ایک پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں۔
منصوبے کی ابتدائی منظوری 2023 میں دی گئی تھی، جبکہ اس پر عملی تعمیراتی کام فروری 2025 میں شروع ہوا۔ منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 2.02 ارب روپے رکھی گئی۔
منور چورنگی انڈر پاس کی مجموعی لمبائی تقریباً 1.1 کلومیٹر (1,100 میٹر) اور چوڑائی 18.5 میٹر ہے۔ منصوبے کو دو طرفہ، متعدد لینوں پر مشتمل انڈر پاس کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کا بہاؤ بغیر رکاوٹ جاری رہ سکے۔
اس منصوبے میں اپروچ ریمپس، سروس روڈز، جدید ڈرینیج سسٹم اور ایل ای ڈی لائٹنگ جیسی سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے اور رات کے وقت آمدورفت میں مشکلات سے بچا جا سکے۔
اگرچہ حکومت سندھ نے منصوبے کی تکمیل کے لیے 30 جون 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، تاہم تعمیراتی کام مقررہ تاریخ تک مکمل نہیں ہو سکا۔ اس سے قبل بھی منصوبے کی تکمیل کی تاریخ متعدد بار تبدیل کی جا چکی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق انڈر پاس کی تعمیر اب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور فنی و تکمیلی کام تیزی سے جاری ہیں، تاہم افتتاح کی نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
ٹریفک ماہرین کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے کے بعد منور چورنگی پر گاڑیوں کی طویل قطاروں میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ گلستانِ جوہر، یونیورسٹی روڈ، اسکیم 33، صفورا چورنگی اور ملحقہ علاقوں کے درمیان سفر کا دورانیہ بھی کم ہو جائے گا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انڈر پاس کی تعمیر کے دوران انہیں کئی ماہ تک شدید ٹریفک جام، متبادل راستوں اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرکے عوام کے لیے کھول دیا جائے تاکہ انہیں اس اہم انفراسٹرکچر منصوبے کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔