loader-image
Karachi, PK
temperature icon 31°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 31°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

پاکستان  میں شمسی توانائی (سولر انرجی) کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت نے توانائی کے شعبے میں ایک نئی امید پیدا کی ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس منتقلی کو شفاف، منصفانہ اور مؤثر پالیسیوں کے تحت نہ چلایا گیا تو یہ ماحولیاتی فائدے کے باوجود معاشی اور سماجی عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق قابلِ تجدید توانائی کا فروغ صرف ماحول دوست بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ شفافیت، مناسب ضابطہ کاری، عوامی رسائی، سستی بجلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ضروری ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے سولر مارکیٹوں میں شامل ہوا ہے۔ کم قیمت چینی سولر پینلز، مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ کے باعث لاکھوں صارفین نے گھروں، صنعتوں اور زرعی شعبے میں سولر سسٹمز نصب کیے ہیں۔ تحقیقی اداروں کے مطابق 2025 کے اختتام تک پاکستان تقریباً 50 گیگاواٹ سے زائد سولر پینلز درآمد کر چکا تھا، تاہم اس کے مقابلے میں گرڈ سے منسلک رجسٹرڈ سولر صلاحیت کہیں کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی مقدار میں بجلی “بیہائنڈ دی میٹر” یا آف گرڈ نظام سے پیدا کی جا رہی ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر انرجی بلاشبہ صاف اور کم لاگت بجلی فراہم کرتی ہے، لیکن اگر حکومتی نگرانی کمزور ہو تو یہی شعبہ مہنگے ٹیرف، زمین کے تنازعات، طاقتور گروہوں کے فائدے، غیر شفاف معاہدوں اور عوامی مالی بوجھ جیسے مسائل کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

پاکستان میں نیٹ میٹرنگ پالیسی پر حالیہ برسوں میں شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام سے گرڈ استعمال کرنے والے دیگر صارفین پر اضافی مالی بوجھ منتقل ہو رہا تھا، جبکہ سولر صارفین کا کہنا ہے کہ نئی شرائط قابلِ تجدید توانائی کی حوصلہ شکنی کریں گی۔

پاکستان  میں شمسی توانائی (سولر انرجی) کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت نے توانائی کے شعبے میں ایک نئی امید پیدا کی ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس منتقلی کو شفاف، منصفانہ اور مؤثر پالیسیوں کے تحت نہ چلایا گیا تو یہ ماحولیاتی فائدے کے باوجود معاشی اور سماجی عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق قابلِ تجدید توانائی کا فروغ صرف ماحول دوست بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ شفافیت، مناسب ضابطہ کاری، عوامی رسائی، سستی بجلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ضروری ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے سولر مارکیٹوں میں شامل ہوا ہے۔ کم قیمت چینی سولر پینلز، مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ کے باعث لاکھوں صارفین نے گھروں، صنعتوں اور زرعی شعبے میں سولر سسٹمز نصب کیے ہیں۔ تحقیقی اداروں کے مطابق 2025 کے اختتام تک پاکستان تقریباً 50 گیگاواٹ سے زائد سولر پینلز درآمد کر چکا تھا، تاہم اس کے مقابلے میں گرڈ سے منسلک رجسٹرڈ سولر صلاحیت کہیں کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی مقدار میں بجلی “بیہائنڈ دی میٹر” یا آف گرڈ نظام سے پیدا کی جا رہی ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر انرجی بلاشبہ صاف اور کم لاگت بجلی فراہم کرتی ہے، لیکن اگر حکومتی نگرانی کمزور ہو تو یہی شعبہ مہنگے ٹیرف، زمین کے تنازعات، طاقتور گروہوں کے فائدے، غیر شفاف معاہدوں اور عوامی مالی بوجھ جیسے مسائل کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

پاکستان میں نیٹ میٹرنگ پالیسی پر حالیہ برسوں میں شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام سے گرڈ استعمال کرنے والے دیگر صارفین پر اضافی مالی بوجھ منتقل ہو رہا تھا، جبکہ سولر صارفین کا کہنا ہے کہ نئی شرائط قابلِ تجدید توانائی کی حوصلہ شکنی کریں گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 تک نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 83 ہزار تک پہنچ گئی جبکہ مجموعی رجسٹرڈ صلاحیت 4,124 میگاواٹ ہو گئی۔ پاور ڈویژن کے مطابق اگر اصلاحات نہ کی جاتیں تو 2034 تک اس نظام کا مالی اثر گرڈ صارفین پر ہزاروں ارب روپے تک پہنچ سکتا تھا۔

دوسری جانب ماحولیاتی ماہرین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسئلہ خود سولر انرجی نہیں بلکہ بجلی کے شعبے کی مجموعی ساخت ہے، جس میں مہنگے کیپیسٹی پیمنٹس، پرانے معاہدے اور کمزور گرڈ انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ ان کے مطابق سولر صارفین کو سزا دینے کے بجائے حکومت کو بجلی کے پورے نظام میں اصلاحات لانا ہوں گی۔ (Dawn)

بین الاقوامی تجزیوں کے مطابق پاکستان میں سولر انرجی کا زیادہ فائدہ فی الحال نسبتاً خوشحال طبقہ، صنعتوں اور بڑے زرعی فارموں کو پہنچ رہا ہے کیونکہ ابتدائی سرمایہ کاری اب بھی عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ اپارٹمنٹ میں رہنے والے افراد، کرایہ دار اور کم آمدنی والے خاندان اس تبدیلی سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو پا رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پالیسی سازی میں سماجی انصاف کو نظرانداز کیا گیا تو بجلی کے گرڈ پر رہ جانے والے صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے، کیونکہ زیادہ آمدنی والے صارفین گرڈ سے کم بجلی خریدیں گے جبکہ گرڈ کے اخراجات باقی صارفین میں تقسیم ہوں گے۔

ماحولیاتی تنظیمیں اس بات پر بھی زور دے رہی ہیں کہ سولر منصوبوں کی منظوری دیتے وقت زمین کے استعمال، مقامی آبادی کے حقوق، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق قابلِ تجدید توانائی کی ترقی ایسی ہونی چاہیے جو ماحول کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے مفادات کا بھی تحفظ کرے۔

ماہرین کی سفارشات میں بجلی کے گرڈ کی جدید کاری، بیٹری اسٹوریج میں سرمایہ کاری، شفاف نیلامی کا نظام، مقامی سطح پر سولر آلات کی تیاری، کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے آسان مالی سہولتیں اور ریگولیٹری فیصلوں میں عوامی مشاورت شامل ہیں۔

توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس شمسی توانائی کے ذریعے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، کاربن اخراج میں کمی لانے اور توانائی کے بحران سے نکلنے کا ایک تاریخی موقع موجود ہے، لیکن اس کامیابی کا انحصار صرف زیادہ سولر پینل لگانے پر نہیں بلکہ ایسی پالیسیوں پر ہوگا جو شفاف، مسابقتی، سستی اور تمام شہریوں کے لیے منصفانہ ہوں۔ یہی عوامل اس بات کا تعین کریں گے کہ پاکستان کی قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی حقیقی معنوں میں ایک صاف اور منصفانہ توانائی کا نظام بن پاتی ہے یا نہیں۔

دوسری جانب ماحولیاتی ماہرین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسئلہ خود سولر انرجی نہیں بلکہ بجلی کے شعبے کی مجموعی ساخت ہے، جس میں مہنگے کیپیسٹی پیمنٹس، پرانے معاہدے اور کمزور گرڈ انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ ان کے مطابق سولر صارفین کو سزا دینے کے بجائے حکومت کو بجلی کے پورے نظام میں اصلاحات لانا ہوں گی۔

بین الاقوامی تجزیوں کے مطابق پاکستان میں سولر انرجی کا زیادہ فائدہ فی الحال نسبتاً خوشحال طبقہ، صنعتوں اور بڑے زرعی فارموں کو پہنچ رہا ہے کیونکہ ابتدائی سرمایہ کاری اب بھی عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ اپارٹمنٹ میں رہنے والے افراد، کرایہ دار اور کم آمدنی والے خاندان اس تبدیلی سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو پا رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پالیسی سازی میں سماجی انصاف کو نظرانداز کیا گیا تو بجلی کے گرڈ پر رہ جانے والے صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے، کیونکہ زیادہ آمدنی والے صارفین گرڈ سے کم بجلی خریدیں گے جبکہ گرڈ کے اخراجات باقی صارفین میں تقسیم ہوں گے۔

ماحولیاتی تنظیمیں اس بات پر بھی زور دے رہی ہیں کہ سولر منصوبوں کی منظوری دیتے وقت زمین کے استعمال، مقامی آبادی کے حقوق، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق قابلِ تجدید توانائی کی ترقی ایسی ہونی چاہیے جو ماحول کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے مفادات کا بھی تحفظ کرے۔

ماہرین کی سفارشات میں بجلی کے گرڈ کی جدید کاری، بیٹری اسٹوریج میں سرمایہ کاری، شفاف نیلامی کا نظام، مقامی سطح پر سولر آلات کی تیاری، کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے آسان مالی سہولتیں اور ریگولیٹری فیصلوں میں عوامی مشاورت شامل ہیں۔

توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس شمسی توانائی کے ذریعے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، کاربن اخراج میں کمی لانے اور توانائی کے بحران سے نکلنے کا ایک تاریخی موقع موجود ہے، لیکن اس کامیابی کا انحصار صرف زیادہ سولر پینل لگانے پر نہیں بلکہ ایسی پالیسیوں پر ہوگا جو شفاف، مسابقتی، سستی اور تمام شہریوں کے لیے منصفانہ ہوں۔ یہی عوامل اس بات کا تعین کریں گے کہ پاکستان کی قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی حقیقی معنوں میں ایک “صاف اور منصفانہ توانائی کا نظام” بن پاتی ہے یا نہیں۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں