loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

مریخ کے جیزیرو کریٹر میں موجود مٹیالے پتھر (مڈ اسٹون) میں نامیاتی کاربن کی موجودگی دریافت، جو قدیم حیات کے ممکنہ آثار کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے پرسیویرنسروور نے مریخ پر دریافت ہونے والے نامیاتی کاربن کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں، جس سے اس سوال کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے کہ آیا زمین کے پڑوسی سیارے پر کبھی زندگی موجود تھی یا نہیں۔

تحقیق کے مطابق، روور نے گزشتہ سال مریخ کے جیزیرو کریٹر (Jezero Crater) میں تلچھٹی چٹان (Sedimentary Rock) سے نامیاتی کاربن دریافت کیا تھا۔ یہ چٹان تقریباً 3.2 سے 3.8 ارب سال قبل ایک ایسی جھیل کے نیچے بنی تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔

نامیاتی کاربن تمام معلوم جانداروں کی بنیادی سالماتی ساخت کا حصہ ہے، کیونکہ یہی ڈی این اے، خلیات اور پروٹین جیسے حیاتیاتی اجزا کی بنیاد بنتا ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ صرف نامیاتی کاربن کی موجودگی زندگی کا ثبوت نہیں، کیونکہ یہ چٹانوں اور پانی کے درمیان ہونے والے کیمیائی تعاملات کے نتیجے میں بھی بن سکتا ہے۔

دو مختلف چٹانوں میں نامیاتی کاربن

ناسا کے روور نے “چییاوا فالز” (Cheyava Falls) اور “والہالا گلیڈز” (Walhalla Glades) نامی دو چٹانوں میں نامیاتی کاربن دریافت کیا، جو ایک دوسرے سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔

گزشتہ سال ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں چییاوا فالز چٹان پر سرخی مائل باریک دانے دار مٹی کے ساتھ دائرہ نما نشانات دکھائے گئے تھے، جو چیتے کے دھبوں سے مشابہ تھے، جبکہ سیاہ نقطے پوست کے بیجوں جیسے نظر آتے تھے۔

زمین پر اس قسم کی ساخت بعض اوقات خردبینی جانداروں (Microbes) کی سرگرمی سے وابستہ ہوتی ہے، اسی لیے سائنس دان اسے ممکنہ حیاتیاتی نشان(Potential Biosignature) قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس کی حتمی تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

مزید تفصیلی تجزیہ

نئی تحقیق میں پرسیویرنس کے SHERLOC آلے کی مدد سے دونوں چٹانوں میں موجود پیچیدہ نامیاتی مادے، جسے Macromolecular Carbon کہا جاتا ہے، کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

محققین کے مطابق اس کاربن کی ساخت زمین پر حیاتیاتی اور غیر حیاتیاتی دونوں عمل سے بننے والے کاربن سے مشابہ ہے، جبکہ کچھ مماثلت شہابی پتھروں میں پائے جانے والے غیر حیاتیاتی کاربن سے بھی ملتی ہے۔

تحقیق کے شریک سربراہ اور ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے سائنس دان کائل اوکرٹ کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اربوں سال پہلے مریخ پر زندگی کے لیے موزوں ماحول اور نامیاتی مادے وسیع پیمانے پر موجود ہو سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دریافت قدیم مریخ پر زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا اور ماحول کی موجودگی کے شواہد کو مضبوط ضرور بناتی ہے، لیکن یہ اب بھی زندگی کے وجود کا براہِ راست ثبوت نہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق پرسیویرنس کے موجودہ آلات یہ تعین کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ دریافت ہونے والا نامیاتی کاربن حیاتیاتی عمل کے نتیجے میں بنا یا غیر حیاتیاتی کیمیائی عمل سے۔

اسی لیے ناسا مستقبل میں ان نمونوں کو زمین پر واپس لا کر جدید لیبارٹریوں میں ان کا تفصیلی تجزیہ کرنا چاہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج اگرچہ مریخ ایک سرد اور خشک سیارہ ہے، لیکن تقریباً 4.5 ارب سال قبل اپنی ابتدائی تاریخ میں وہاں گھنا ماحول، نسبتاً گرم موسم اور سطح پر مائع پانی موجود تھا۔ جیزیرو کریٹر بھی کبھی ایک قدیم جھیل کا حصہ تھا، جہاں بہتے دریا آ کر گرتے تھے، اور سائنس دانوں کے مطابق ایسے ماحول میں خردبینی زندگی کے امکانات موجود ہو سکتے تھے۔

کائل اوکرٹ کے مطابق، “کائنات میں اب تک صرف زمین ہی وہ واحد مقام ہے جہاں زندگی کی موجودگی ثابت ہو چکی ہے۔

اگر مریخ پر بھی کبھی زندگی کے شواہد مل جاتے ہیں تو یہ دریافت اس بات کی طرف اشارہ ہوگی کہ مناسب حالات اور ضروری کیمیائی اجزا موجود ہوں تو زندگی صرف زمین تک محدود نہیں۔”

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں