امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف تازہ فضائی کارروائی کے دوران تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ 8 جولائی کو کیے گئے ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ریڈار تنصیبات اور دیگر فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق کارروائی کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا اور خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 9, 2026
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کی جانے والی فوجی کارروائیوں کا تسلسل ہے، جن کا مقصد ایران کی جانب سے بحری سلامتی کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق کارروائی کی منصوبہ بندی اس انداز میں کی گئی کہ شہری آبادی اور غیر فوجی تنصیبات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
امریکی حملوں کے چند ہی گھنٹوں بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے مطابق ان حملوں میں بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا
شہر اہواز کے نواح میں ہونے والے امریکی حملے سے متعلق مزید اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا (IRNA) کے مطابق اس حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔