loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایران نے بحرین، کویت اورر قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دفاعی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

یہ کارروائی امریکا کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر کیے گئے تازہ فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی، جن میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکا کی جانب سے مسلسل دوسری رات ایرانی شہروں پر فضائی حملوں کے بعد ایران نے بحرین، کویت اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں اور اسٹریٹجک مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن کا ہدف خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات تھیں۔

دوسری جانب ایران کے مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو آج ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ان کی آخری رسومات سے قبل عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں لاکھوں افراد نے جنازے کے جلوس میں شرکت کی۔

امریکی فوج نے گزشتہ رات ایران کے جنوبی علاقوں میں کئی مقامات پر فضائی کارروائیاں کیں۔ رپورٹس کے مطابق حملوں کا ہدف بندر عباس، بوشہر اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع فوجی تنصیبات، میزائل لانچر، فضائی دفاعی نظام اور دیگر عسکری ڈھانچے تھے۔

امریکی فضائی حملوں میں گزشتہ دو روز کے دوران 14 افراد ہلاک اور 78 زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کے دوران آبنائے ہرمز کے اطراف واقع ایرانی شہروں بوشہر، چاہ بہار، بندر عباس اور سیریک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

ایران نے ان حملوں کے چند گھنٹوں بعد بحرین، کویت اور قطر میں امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی حملوں کا اعلان کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق حملوں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی دفاعی نظام، ایندھن کے ذخائر اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب بحرین، کویت اور قطر نے اپنے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے۔ بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے جبکہ کویت نے متعدد میزائل اور ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ دو روز کے امریکی حملوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 78 زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو مزید سخت فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ کشیدگی سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں بلکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، عالمی تیل کی ترسیل اور عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ کئی ممالک نے دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری سفارتی مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں