loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

کراچی: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے جون 2026ء کے دوران وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے ذریعے ملکی معیشت کو ایک بار پھر مضبوط سہارا فراہم کیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2026ء میں کارکنوں کی ترسیلات زر کی مد میں 3.5 ارب امریکی ڈالر موصول ہوئے۔

مرکزی بینک کے مطابق جون میں موصول ہونے والی ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم مئی 2026ء کے مقابلے میں یہ رقم 18.3 فیصد کم رہی۔ ماہرین کے مطابق ماہانہ بنیاد پر کمی کی بڑی وجہ عیدالاضحیٰ سے قبل مئی میں معمول سے زیادہ ترسیلات زر کی آمد تھی، جس کے بعد جون میں فطری طور پر کمی دیکھنے میں آئی۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے اختتام پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 41.6 ارب امریکی ڈالر وطن بھیجے، جو مالی سال 2024-25 کے دوران موصول ہونے والے 38.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کی معاونت میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2026ء میں سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے موصول ہوئیں، جہاں مقیم پاکستانیوں نے 829.6 ملین امریکی ڈالر وطن بھیجے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا، جہاں سے 792.2 ملین ڈالر پاکستان منتقل کیے گئے۔

برطانیہ سے جون کے دوران 514.9 ملین امریکی ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جبکہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے 296.8 ملین امریکی ڈالر پاکستان بھیجے۔ ان چار ممالک سے آنے والی رقوم مجموعی ترسیلات زر کا بڑا حصہ ہیں اور یہ ممالک کئی برسوں سے پاکستان کے لیے ترسیلات زر کے اہم ترین ذرائع شمار ہوتے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں سالانہ اضافہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ کے استحکام اور روپے کی قدر کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ترسیلات زر کا یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ مالی سال میں بھی بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی اور معیشت کو استحکام ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکاری ذرائع سے رقوم کی منتقلی کی حوصلہ افزائی، ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولتوں میں اضافہ اور قانونی ذرائع کے استعمال کو فروغ دینے کی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ترسیلات زر کے حجم میں مجموعی طور پر مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی نہ صرف ملکی معیشت کے لیے قیمتی زرمبادلہ فراہم کر رہے ہیں بلکہ ان کی بھیجی گئی رقوم لاکھوں خاندانوں کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ ان رقوم سے گھریلو اخراجات، تعلیم، صحت، رہائش اور چھوٹے کاروباروں میں سرمایہ کاری ممکن ہوتی ہے، جس کے مثبت اثرات مجموعی اقتصادی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مسلسل آمد ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، جبکہ حکومت اور متعلقہ ادارے قانونی ذرائع سے رقوم کی منتقلی کو مزید آسان اور مؤثر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں