کراچی :عدالت نے چھ سالہ بچے کے مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کر دیا
کراچی کی مقامی عدالت نے چھ سالہ بچے کے مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش ابتدائی طور پر جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے مبینہ طور پر بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ کراچی کے ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا، جہاں چھ سالہ بچہ لاپتا ہونے کے بعد مردہ حالت میں ملا تھا۔ بچے کی گمشدگی کی اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری طور پر تلاش کا آغاز کیا اور جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر تکنیکی معلومات کی مدد سے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ابتدائی تفتیش کے بعد اسے باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی مزید تفتیش، شواہد اکٹھا کرنے، فرانزک رپورٹس حاصل کرنے، آلۂ واردات کی برآمدگی اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کی جانچ کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے ابتدائی بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے بچے کو ورغلا کر اپنے ساتھ لے گیا، جہاں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی اور بعد ازاں شناخت ظاہر ہونے کے خوف سے اسے قتل کر دیا۔
تاہم پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ملزم کے اعترافی بیان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت کرے گی، جبکہ کیس کے مختلف پہلوؤں کی تصدیق فرانزک شواہد، ڈی این اے رپورٹ اور دیگر سائنسی تحقیقات کی روشنی میں کی جائے گی۔
بچے کے قتل کی خبر سامنے آنے کے بعد اہلِ علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اہلِ خانہ نے ملزم کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
واقعے کے بعد شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی بچوں کے تحفظ، محفوظ ماحول کی فراہمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارکردگی پر زور دیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹ، ڈی این اے تجزیے اور دیگر تکنیکی رپورٹس موصول ہونے کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام شواہد کی بنیاد پر شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔