لاہور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے شہر بھر میں بغیر رجسٹریشن چلنے والے 213 نجی اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے انہیں سیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اسکول متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق رجسٹرڈ نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ان کی قانونی حیثیت مشکوک ہے اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے مطابق شہر میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے جاری مہم کے دوران مختلف علاقوں میں قائم سیکڑوں اسکولوں کا معائنہ کیا گیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ 213 تعلیمی ادارے بغیر رجسٹریشن کے طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ حکام نے ان اداروں کو متعدد بار رجسٹریشن مکمل کرنے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے، تاہم بیشتر اسکول مقررہ مدت میں مطلوبہ کارروائی مکمل نہ کر سکے۔
اتھارٹی کے مطابق رجسٹریشن کے بغیر کسی بھی تعلیمی ادارے کا چلانا پنجاب کے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ رجسٹرڈ نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف ادارے کی انتظامیہ جوابدہ ہوتی ہے بلکہ طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ، امتحانات، اسناد اور دیگر انتظامی معاملات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایسے اداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی نظام میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
تعلیمی حکام کا کہنا ہے کہ بغیر رجسٹریشن اسکول چلانے والے ادارے اکثر بنیادی سہولیات، حفاظتی اقدامات، تربیت یافتہ تدریسی عملے اور سرکاری ضوابط پر بھی پورا نہیں اترتے۔ بعض صورتوں میں عمارتوں کی حالت، آگ سے بچاؤ کے انتظامات، صفائی، کھیل کے میدان اور دیگر ضروری سہولیات بھی معیار کے مطابق نہیں ہوتیں، جس سے طلبہ کی سلامتی اور تعلیمی معیار متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
نیوز رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے اپنی سفارشات متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو بھجوا دی ہیں، جہاں حتمی منظوری کے بعد ان اسکولوں کو مرحلہ وار سیل کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسے اداروں کی انتظامیہ کو قانونی تقاضے پورے کرنے اور رجسٹریشن مکمل کرنے کا ایک اور موقع بھی دیا جا سکتا ہے، تاہم جو ادارے مسلسل قوانین کی خلاف ورزی کرتے رہیں گے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا داخلہ صرف رجسٹرڈ اور منظور شدہ تعلیمی اداروں میں کرائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ داخلے سے قبل اسکول کی رجسٹریشن، تدریسی معیار اور بنیادی سہولیات کی تصدیق ضرور کریں تاکہ بچوں کی تعلیم اور مستقبل کسی بھی قانونی یا انتظامی مسئلے سے محفوظ رہ سکے۔