کراچی، پی پی پی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس : سندھ کی ترقی، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، ڈیجیٹل معیشت اور زرعی شعبے کی جدید خطوط کا جائزہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام نے مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں کیٹی بندر انڈسٹریل کوریڈور منصوبے پر غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ منصوبے کے تحت کیٹی بندر کو عالمی معیار کی بندرگاہ اور صنعتی مرکز کے طور پر ترقی دی جائے گی، جس سے برآمدات، صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔
شرکاء کو سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قیام سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ منصوبے کا مقصد کراچی کو ایک مضبوط علاقائی مالیاتی مرکز بنانا اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے جدید مالیاتی سہولیات فراہم کرنا ہے، جس سے سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
اجلاس میں سندھ میں آئی ٹی انفراسٹرکچر اور جدید ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق ان منصوبوں سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ سندھ کو خطے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا اہم مرکز بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
زرعی شعبے کی بہتری کے لیے فارمرز ایگریکلچرل کلیکشن سینٹرز کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ ان مراکز کے ذریعے کسانوں کو جدید زرعی سہولیات، مشینری، تکنیکی معاونت اور اپنی پیداوار کو بہتر انداز میں منڈی تک پہنچانے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے زرعی پیداوار اور دیہی معیشت کو تقویت ملنے کی امید ہے۔
اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق مختلف تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ شرکاء نے پی پی پی یونٹ کو مزید فعال بنانے اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کی سفارش کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کی پائیدار ترقی، جدید انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، زراعت اور سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور سندھ ملکی معیشت میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکے۔