بھارت میں گائے کے بہانے مسلمان شخص 50 سالہ نذیر احمد کو قتل کرنے والے 14 افراد کوسزا سنانے والی مسلمان خاتون جج کو قتل اور ریپ کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش کی عدالت کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج تبسم خان نے 14 ملزمان کو قتل، اقدامِ قتل، فساد اور غیر قانونی طور پر راستہ روکنے سمیت مختلف جرائم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سزا سنانے کے بعد سے خاتون جج کوآن لائن قتل کرنے اور ریپ کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ اپنے فیصلے میں جج تبسم خان نے قرار دیا کہ یہ ہجوم کے ہاتھوں قتل، یعنی موب لنچنگ کا واضح مقدمہ تھا۔
تاہم اس فیصلے کے بعد مسلم جج تبسم خان مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز مہم کا نشانہ بن گئیں۔ فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں انھیں گالیاں دی گئیں، قتل اور ریپ کی دھمکیاں دی گئیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ انھوں نے صرف اس لیے ملزمان کے خلاف فیصلہ دیا کیونکہ وہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔
یہ واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا جب 50 سالہ نذیر احمد رات کے وقت مویشی لے جا رہے تھے۔ راستے میں خود کو ’گئو رکشک‘ (گائے کے محافظ) کہنے والے لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے مسلح افراد کے ایک گروہ نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔
ملزمان نے نذیر احمد اور ان کے دو ساتھیوں کو گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور گائے اسمگل کرنے کے شبہے میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ نذیر احمد بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ ان کے دونوں ساتھی زندہ بچ گئے اور عدالت کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔