پاکستان میں ریبیز کی نگرانی کا کوئی باضابطہ نظام نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک میں ہر سال 5 ہزار افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے وفد نے وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات میں بریفنگ میں بتایا کہ کہ ملک میں ریبیز کی نگرانی کا کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں ہے اور دستیاب اندازوں کے مطابق ہر سال تقریباً 5,000 افراد ریبیز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
وفد کے مطابق ہر سال کتوں کے کاٹنے کے لاکھوں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد بچے، دیہی علاقوں اور شہری مضافات کی محروم آبادی ہیں۔ مصطفی کمال نے پاکستان میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے قومی ریبیز پریوینشن اینڈ کنٹرول فریم ورک کی تیاری کی اصولی منظوری دی۔