loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے سیاحتی مقام پیر سوہاوہ پر واقع مونال ریستوران سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے، جس میں ریستوران کو گرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

مونال انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی، تاہم اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

بعد ازاں میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) اور وفاقی ترقیاتی ادارے (CDA) نے وفاقی آئینی عدالت میں اپیلیں دائر کیں۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ان اپیلوں کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ ٹرائل کورٹ کے سپرد کر دیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹ زمین کی ملکیت کے تنازع کا فیصلہ مکمل طور پر آزادانہ انداز میں کرے اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے یا عدالتی آبزرویشنز سے متاثر نہ ہو۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ اس مقدمے کی جلد سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنائے۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ زمین سے متعلق انتظامی اور ریگولیٹری معاملات کا فیصلہ متعلقہ ادارے، بشمول ریگولیٹری باڈیز، اپنے قانونی اختیارات کے تحت کریں گے۔

اس فیصلے کو مونال ریستوران کیس میں ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اب زمین کی ملکیت کا بنیادی تنازع دوبارہ ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہوگا، جہاں شواہد اور قانونی نکات کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریستوران کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے سیاحتی مقام پیر سوہاوہ پر واقع مونال ریستوران سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے، جس میں ریستوران کو گرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

مونال انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی، تاہم اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

اس فیصلے کو مونال ریستوران کیس میں ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اب زمین کی ملکیت کا بنیادی تنازع دوبارہ ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہوگا، جہاں شواہد اور قانونی نکات کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں