وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی، جارحیت اور ایسے اقدامات کی مذمت کرتا ہے جو خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بنیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب امت مسلمہ کا ایک اہم ملک ہے اور پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں سعودی عوام اور قیادت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
شہباز شریف نے حملوں میں متاثرہ افراد سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور عالمی برادری کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو اپنی خارجہ پالیسی میں خصوصی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر اس اقدام کی حمایت کرے گا جو خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کا باعث بنے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔
وزیراعظم نے آخر میں کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اس یقین کا اعادہ کرتے ہیں کہ دونوں برادر ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں تیز کرے تاکہ مزید تصادم اور انسانی نقصان سے بچا جا سکے۔