کراچی: سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کا معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سرنج ہی وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ نہیں، بلکہ اس کے دیگر اسباب بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام ممکنہ وجوہات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسکریننگ نہ کی جاتی تو اتنی بڑی تعداد میں متاثرہ افراد کا علم ہی نہ ہو پاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آتے ہیں، اس لیے بحران سے نظریں چرانے کے بجائے اس کے حل پر توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی شناخت اور ذاتی معلومات کو خفیہ رکھنا لازمی ہے، اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ معلومات کو پوشیدہ رکھتے ہوئے تمام ضروری کارروائی مکمل کی جائے۔
وزیر محنت کے مطابق ولیکا اسپتال اور اس کے اطراف کی آبادیوں میں آگاہی مہم کے تحت 11 ہزار 600 افراد کو بلایا گیا، جن میں سے 10 ہزار 500 افراد کی اسکریننگ کی گئی۔ اس عمل کے دوران 120 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ 120 افراد میں سے 81 کے پاس سوشل سیکیورٹی کارڈ موجود تھے، جس کے باعث یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر وائرس کا تعلق مذکورہ ادارے سے ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتیجہ سامنے آنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
سعید غنی نے کہا کہ احتیاطی اقدامات کے طور پر دیگر سوشل سیکیورٹی اسپتالوں میں بھی اسکریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ لانڈھی اسپتال میں دو ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی، جہاں دس افراد کی رپورٹ ایچ آئی وی مثبت آئی۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد سے متعلق معلومات جمع کرنے کے لیے ایک خصوصی فارم بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ وائرس کے ممکنہ ذرائع، متاثرہ افراد کی طبی تاریخ اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لے کر مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔
وزیر محنت نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور دیگر مریضوں کی طویل المدتی نگہداشت اور علاج حکومت کی ذمہ داری ہے، اور حکومت اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ اس معاملے کو سامنے نہ لاتے تو متاثرہ افراد تک بروقت علاج اور سہولیات پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی قیادت یا وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس معاملے سے الگ ہونا چاہیے تو وہ اس فیصلے کو بھی قبول کریں گے، تاہم ان کی اولین ترجیح متاثرہ افراد کا علاج، تحقیقات کی تکمیل اور وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام ہے۔
ایچ آئی وی کا معاملہ انتہائی سنگین، صرف سرنج ہی وائرس پھیلنے کی وجہ نہیں، مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا: سعید غنی
کراچی: سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کا معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سرنج ہی وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ نہیں، بلکہ اس کے دیگر اسباب بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام ممکنہ وجوہات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسکریننگ نہ کی جاتی تو اتنی بڑی تعداد میں متاثرہ افراد کا علم ہی نہ ہو پاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آتے ہیں، اس لیے بحران سے نظریں چرانے کے بجائے اس کے حل پر توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی شناخت اور ذاتی معلومات کو خفیہ رکھنا لازمی ہے، اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ معلومات کو پوشیدہ رکھتے ہوئے تمام ضروری کارروائی مکمل کی جائے۔
وزیر محنت کے مطابق ولیکا اسپتال اور اس کے اطراف کی آبادیوں میں آگاہی مہم کے تحت 11 ہزار 600 افراد کو بلایا گیا، جن میں سے 10 ہزار 500 افراد کی اسکریننگ کی گئی۔ اس عمل کے دوران 120 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ 120 افراد میں سے 81 کے پاس سوشل سیکیورٹی کارڈ موجود تھے، جس کے باعث یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر وائرس کا تعلق مذکورہ ادارے سے ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتیجہ سامنے آنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
سعید غنی نے کہا کہ احتیاطی اقدامات کے طور پر دیگر سوشل سیکیورٹی اسپتالوں میں بھی اسکریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ لانڈھی اسپتال میں دو ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی، جہاں دس افراد کی رپورٹ ایچ آئی وی مثبت آئی۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد سے متعلق معلومات جمع کرنے کے لیے ایک خصوصی فارم بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ وائرس کے ممکنہ ذرائع، متاثرہ افراد کی طبی تاریخ اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لے کر مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔
وزیر محنت نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور دیگر مریضوں کی طویل المدتی نگہداشت اور علاج حکومت کی ذمہ داری ہے، اور حکومت اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ اس معاملے کو سامنے نہ لاتے تو متاثرہ افراد تک بروقت علاج اور سہولیات پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی قیادت یا وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس معاملے سے الگ ہونا چاہیے تو وہ اس فیصلے کو بھی قبول کریں گے، تاہم ان کی اولین ترجیح متاثرہ افراد کا علاج، تحقیقات کی تکمیل اور وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام ہے۔