امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو آئندہ ہفتے امریکا اپنے حملوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ایرانی پاور اسٹیشنز اور پلوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔
امریکی چینل کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگلا ہفتہ ایران کے لیے بہت برا ہوگا کیونکہ اس کے پاور اسٹیشنز اور پل نشانہ بنائے جائیں گے۔ اگر وہ مذاکرات کی میز پر واپس نہ آئے تو ہم ان کے تمام پاور اسٹیشنز اور تمام پل تباہ کر دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک میں یہ نہ کہہ دوں کہ اب کافی ہو گیا ہے۔ایران کے توانائی کے اہداف کو فی الحال آخر میں نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران میں اب بھی کچھ مزاحمت باقی ہے، لیکن زیادہ نہیں جبکہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔اگر اس وقت کارروائیاں رک بھی جائیں تو ایران کو اپنی فوجی طاقت بحال کرنے میں تقریباً 20 سال لگ سکتے ہیں۔ گزشتہ روز امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی، جس میں واشنگٹن نے تہران پر زور دیا کہ وہ معاہدہ کر لے۔