loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
Blochistan Energy crises

پاکستان کے مختلف صوبوں میں معاشی شعبوں کے لحاظ سے بجلی کی کھپت کا جائزہ نمایاں فرق ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان میں بجلی کی کھپت کے شعبہ وار اعدادوشمار ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہر صوبے میں توانائی کی ضروریات اور استعمال کا انداز مختلف ہے۔ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں بجلی کا بڑا حصہ گھریلو، صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے، مگر بلوچستان اس حوالے سے ایک منفرد تصویر پیش کرتا ہے، جہاں مجموعی بجلی کی کھپت کا تقریباً 64 فیصد حصہ زرعی شعبے کے حصے میں آتا ہے۔

یہ غیر معمولی تناسب محض زرعی سرگرمیوں کی وسعت کی وجہ سے نہیں بلکہ پانی کے حصول کے مشکل جغرافیائی حالات کا نتیجہ بھی ہے۔ بلوچستان کے بیشتر علاقے خشک اور نیم صحرائی ہیں، جہاں بارش کم ہوتی ہے اور نہری نظام محدود ہے۔ اسی وجہ سے کسانوں کا انحصار زیرِ زمین پانی پر ہے، جسے نکالنے کے لیے طاقتور برقی ٹیوب ویل استعمال کیے جاتے ہیں۔

صوبے کے کئی اضلاع میں زیرِ زمین پانی کی سطح ایک ہزار سے پندرہ سو فٹ تک جا پہنچی ہے۔ اتنی گہرائی سے پانی نکالنے کے لیے زیادہ طاقتور موٹروں اور مسلسل بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے زرعی شعبے کی بجلی کی کھپت دیگر تمام شعبوں پر غالب آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں زرعی بجلی کا حصہ ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

اس بڑھتی ہوئی کھپت کے معاشی اور ماحولیاتی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ ایک جانب زرعی ٹیوب ویلوں پر دی جانے والی بجلی کی سبسڈی حکومت کے لیے مالی بوجھ بنتی ہے، تو دوسری جانب زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال سے آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں پانی کی سطح ہر سال مزید نیچے جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مزید گہرے ٹیوب ویل اور زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے، یوں ایک ایسا چکر جنم لیتا ہے جو توانائی اور پانی دونوں کے بحران کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا حل صرف بجلی کی فراہمی بڑھانے میں نہیں بلکہ پانی کے مؤثر استعمال، جدید آبپاشی نظام، شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور زیرِ زمین پانی کے پائیدار انتظام میں ہے۔ اگر ان شعبوں میں مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو بلوچستان میں زرعی پیداوار، آبی وسائل اور توانائی کا نظام مستقبل میں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

بلوچستان کی بجلی کی کھپت کا یہ منفرد رجحان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں توانائی کی منصوبہ بندی یکساں نہیں ہو سکتی۔ ہر صوبے کی جغرافیائی، معاشی اور آبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ماخذ: تحقیق ڈاکٹر اشفاق حسن خان، بجلی کی صوبہ وار شعبہ جاتی کھپت کے اعدادوشمار۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں