loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

ایک طبی تحقیق کا کہنا ہے کہ شدید خوشی سے مرجانے والا محاورہ انتہائی نادر معاملے میں سچ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک کیس سٹڈی، جسے “آکسفورڈ میڈیکل کیس رپورٹس” جریدے نے شائع کیا میں ایک 65 سالہ خاتون کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ خاتون میں ایسی علامات ظاہر ہوئیں جن سے ڈاکٹروں نے شروع میں یہ سمجھا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ یہ اس وقت ہوا تھا جب وہ اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد شدید خوشی کے جذبات سے مغلوب ہو گئی تھیں۔

شادی کے بعد وہ خاتون تین دن تک سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار رہیں اور جب وہ ڈاکٹر کے پاس گئیں تو دل کا دورہ پڑنے کے شبہ میں انہیں فوری طور پر ایمرجنسی وارڈ منتقل کر دیا گیا۔ لیکن معائنے حیران کن تھے کیونکہ ان میں دل کی طرف خون کے بہاؤ میں کمی کے اشارے ملےجو عام طور پر خون جمنے کی وجہ سے ہوتا ہے تاہم ڈاکٹروں کو شریانوں میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ملی۔

اچانک خاتون نئی یادیں بنانے کی صلاحیت سے محروم ہو گئیں۔ وہ بار بار ایک ہی سوال دہرانے لگیں اور چند منٹ پہلے پیش آنے والے واقعات یا جوابات بھی انہیں یاد نہیں رہتے تھے۔ اس صورت حال نے ان کے خاندان کو پریشان کر دیا اور انہیں اسپتال منتقل  کیا گیا۔

ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ وہ “ٹرانزینٹ گلوبل ایمنیشیا” کا شکار ہیں۔ اس میں وقتی اور مکمل یادداشت چلی جاتی ہے۔ یہ ایک نادر اعصابی حالت ہے جس کے دوران مریض عارضی طور پر نئی یادیں بنانے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ باقی علمی اور ذہنی وظائف برقرار رہتے ہیں۔ خاتون کی یادداشت بتدریج واپس آنے سے پہلے یہ علامات کئی گھنٹوں تک برقرار رہیں اور وہ بغیر کسی مستقل اثرات کے ہسپتال سے رخصت ہو گئیں۔

یہ تبدیلی ایک نادر حالت کی واضح علامت ہے جسے “کارڈیو مایوپیتھی” کہا جاتا ہے یا اس کیس میں اسے “ہیپی ہارٹ سنڈروم کہا گیا۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں