loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

ہم سب سنتے ہیں کہ سندھ حکومت ایک بہتر راستے کو تلاش کر کے عوام کے دل جتنا چاہتی ہے ۔سندھ اسمبلی میں عوام کے منتخب کردوہ اراکین جب عوام کی بات ہی نا کریں تو سوال تو بنتا ہے۔ کیوں کہ وقفہ سوالات میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب ہی نا ملیں تو باتیں تو بنیں گی۔

سندھ اسمبلی میں حکومتی جوابدہی کا نظام سوالات کی زد میں آ گیا۔ دو سالہ پارلیمانی ریکارڈ سے انکشاف ہوا ہے کہ 14صوبائی محکمے ایسے ہیں جن سے۔ متعلق ایک بھی سوال کا جواب ایوان میں پیش نہیں کیاگیا جب کہ سندھ حکومت کے مختلف محکموں نے35فیصد سوالات کے جوابات ایوان کو بھیجے نہیں بھیجے

سندھ اسمبلی میں حکومتی محکموں کی پارلیمانی جوابدہی کا نظام سوالات کی زد میں ہے۔ فروری 2024 سےجولائی 2026تک سندھ اسمبلی کے18سیشنز اور 234دن ایوان کی کارروائی چلی پارلیمانی ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ارکانِ سندھ اسمبلی کی جانب سے 45 سرکاری محکموں سے متعلق پوچھے گئے 1855 سوالات میں سے 35.4 فیصد سوالات کے جواب متعلقہ محکموں نے اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع ہی نہیں کرائے، جبکہ صرف 64.6 فیصد سوالات کے جواب موصول ہوئے۔ مزید یہ کہ سیکریٹریٹ میں جمع ہونے والے جوابات میں سے بھی صرف 46 فیصد ایوان میں پیش کیے جا سکے، جبکہ 54 فیصد جواب جمع ہونے کے باوجود وزراء اور پارلیمانی سیکریٹریز نے ایوان میں پیش نہیں کیے۔
دستاویزات کے مطابق صنعت،، ماحولیات، کالج ایجوکیشن، اور جامعات و بورڈز سمیت متعدد اہم محکمے ارکان کے سوالات کے جواب دینے میں نمایاں طور پر پیچھے رہے۔اسی طرح محکمہ صنعت نے صرف 14 فیصد سوالات کے جواب جمع کرائے، محکمہ ماحولیات سے ارکان نے56سوالات کیے جس میں سے صرف اٹھارہ سوالات کے جواب اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھیج
دوسری جانب، کئی ایسے محکمے بھی سامنے آئے جنہوں نے سوالات کے جوابات سیکریٹریٹ میں تو جمع کرا دیے، مگر متعلقہ وزراء یا پارلیمانی سیکریٹریز نے انہیں ایوان میں پیش نہیں کیا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق زراعت، بورڈ آف ریونیو، توانائی، داخلہ، اینٹی کرپشن، خوراک، ایکسائز، جنگلات اور دیگر محکموں کے سیکڑوں جواب اسمبلی میں جمع ہونے کے باوجود کارروائی کا حصہ نہ بن سکے۔
پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر 1855 سوالات میں سے صرف 29.7 فیصد سوالات کے جواب ہی ایوان میں پیش کیے جا سکے، جس سے صوبائی اسمبلی میں حکومتی جوابدہی اور پارلیمانی نگرانی کے مؤثر نظام پر نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ سوالات بلدیات، صحت، اسکول ایجوکیشن، داخلہ، ٹرانسپورٹ، زراعت اور لائیو اسٹاک کے محکموں سے متعلق پوچھے گئےدوسال کے عرصے میں ارکان نے1855سوالات پینتالیس محکموں سے متعلق کیے جن میں سے محکموں نے1199کےجواباٹ اسمبلی سیکرٹریٹ کو ارسال کیے656سوالات کے جوابات محکموں نے نہیں بھیجے اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول ہونے والے جوابات میں سے551ایوان کی کاروائی میں وقفہ سوالات کےدوران شامل کیے گئے جبکہ648سوالات تاحال ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکے ہیں دوسال کےدوران محکمہ جیل خانہ جات ،بہبود آبادی،بحالیات ,ریلیف،سندھ ریونیو بورڈ،سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن،ورکس اینڈ سروسز،اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ،امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلیٹیز ،خزانہ،انسانی حقوق،انفارمیشن سائنس ٹیکنالوجی سرمایہ کاری لینڈ یوٹیلائزیشن سے متعلق ارکان کے پوچھے گئے کسی سوال کا جواب ایوان میں پیش نہیں کیا گیا ۔ٹرانسپورٹ لائیو اسٹاک فشریز صحت بلدیات ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے جواب ایوان کی کارروائی کا حصہ بن چکے ہیں

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں