loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
30-Aug-2026
16-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
30-Aug-2026
16-Rabi' al-Awwal-1448

اسلام آباد: خطے میں جاری کشیدہ صورتحال اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا مقصد عالمی مارکیٹ میں اچانک ہونے والے اضافے کے اثرات کو مقامی صارفین تک براہِ راست منتقل ہونے سے روکنا اور قیمتوں میں زیادہ استحکام لانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ خزانہ، وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے درمیان اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقہ کار مزید مؤثر بنانے، پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں لچک پیدا کرنے سمیت مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔

حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو درآمدی بل میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت عوام پر فوری مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے مرحلہ وار حکمت عملی اختیار کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت بین الاقوامی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں قیمتوں میں ایک ہی بار بڑا اضافہ کرنے کے بجائے مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ کی جا سکتی ہے، جبکہ مالی گنجائش کی صورت میں بعض مواقع پر حکومتی ریلیف دینے کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں مالی استحکام اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے، اسی لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا ایسا نظام متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو عالمی حالات کے اثرات کو بہتر انداز میں سنبھال سکے۔

تاہم، حکومت کی جانب سے نئی حکمت عملی کی باضابطہ منظوری یا اس کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں، اور حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی مشاورت اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد متوقع ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں