ایک طرف دنیا اسپین کی فیفا ورلڈ کپ 2026 میں فتح اور عالمی فٹبال کے سپر اسٹارز کا جشن منا رہی تھی، تو دوسری جانب بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے ایک دور افتادہ قبائلی گاؤں نے فٹبال سے اپنی محبت کا ایسا منفرد اظہار کیا ۔
جھارکھنڈ کے قبائلی اکثریتی ضلع چائی باسا کے گاؤں تیریلباسا میں 14 سے 17 جولائی تک “رنگیلا اسٹار تیریلباسا” فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں اردگرد کے 64 دیہاتوں کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس ٹورنامنٹ کی خاص بات صرف مقابلے نہیں تھے بلکہ فاتح ٹیموں کے لیے رکھا گیا منفرد انعام بھی تھا۔ یہاں روایتی ٹرافیوں کے بجائے بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو بکریاں انعام میں دی گئیں، جبکہ نقد انعام بھی رکھا گیا تھا۔
دلچسپ اتفاق یہ بھی رہا کہ ٹورنامنٹ کے فائنل میں این سی ایس ماؤدی نے کمبارام کو ایک صفر سے شکست دی، اور صرف دو روز بعد نیویارک میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی اسپین نے ارجنٹینا کو ایک صفر سے ہرا کر عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کر لیا۔
مقامی زبان اور ثقافت سے جڑا یہ ٹورنامنٹ اپنے نام کی طرح منفرد ہے۔ “رنگیلا” ہندی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب رنگا رنگ یا جوش و خروش سے بھرپور ہے، جبکہ “اسٹار” مقامی نوجوانوں کی صلاحیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
تیریلباسا ٹیم کے گول کیپر کیشری نے کہا، “رنگیلا ہمارے جذبے کی علامت ہے کہ ہم کچھ مختلف اور منفرد کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اسٹار مقامی ٹیلنٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ تیریلباسا نوجوان فٹبالرز کے لیے ایک ایسا میدان بن جائے جہاں ان کی صلاحیتیں نکھر سکیں اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے۔”
یہ ٹورنامنٹ صرف کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک ثقافتی میلہ بھی بن جاتا ہے۔ دن بھر سیکڑوں افراد میدان کے اطراف موجود رہتے ہیں۔ کچھ لوگ میدان کے کنارے بیٹھ کر میچ دیکھتے ہیں جبکہ بہتر منظر کے لیے نوجوان اور بچے درختوں پر چڑھ جاتے ہیں۔
میدان کے قریب لگے عارضی اسٹالوں پر مقامی پکوان فروخت کیے جاتے ہیں، جن میں تلی ہوئی آٹے کی گولیاں، آلو کے چاپ اور زرد مٹر شامل ہیں۔ اس کے ساتھ مقامی طور پر تیار کی جانے والی خمیر شدہ چاول کی بیئر “ماڈیا” بھی فروخت ہوتی ہے، جس کے بارے میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ شدید گرمی اور حبس میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
میچوں کے وقفے کے دوران مرد حلقہ بنا کر بیٹھتے ہیں، ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں اور ماڈیا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ شام ڈھلنے کے بعد کھیلوں کا جوش ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک اور روایتی سرگرمی شروع ہو جاتی ہے۔ مقامی لوگ “مرغا پکڑنے” کا کھیل کھیلتے ہیں، جس پر تماشائی شرطیں بھی لگاتے ہیں اور یوں کھیلوں کا یہ میلہ رات گئے تک جاری رہتا ہے۔
قبائلی علاقوں میں فٹبال کئی دہائیوں سے مقبول کھیل رہا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود نوجوان شوق اور جذبے کے ساتھ اس کھیل میں حصہ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے مقامی ٹورنامنٹس صرف کھیل کے فروغ کا ذریعہ نہیں بنتے بلکہ مختلف دیہاتوں کے درمیان سماجی روابط کو مضبوط کرتے، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے اور مقامی ثقافت کو زندہ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔