loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ دیتےہوئے کہا کہ عدالت اعظمیٰ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں۔  

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ اس بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔ کیس میں درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے تھے۔ درخواست گزار کے وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلے میں کہا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔ بانی پی ٹی آئی نے ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔ نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی  جس کے مطابق نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا ۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں