لانڈھی ہسپتال میں ایچ آئی وی اسکریننگ کے دوران چار ماہ کے ایک بچے اور اس کی والدہ میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہونے کے بعد محکمہ صحت نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق متاثرہ خاندان کو مزید طبی معائنے اور مشاورت کے لیے خصوصی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔
صحت حکام کا کہنا ہے کہ بچے اور والدہ میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ہوئی، جبکہ بیماری کے ممکنہ ذرائع کا تعین کرنے کے لیے خاندان کے دیگر افراد کے ٹیسٹ بھی ضروری ہیں۔ تاہم بچے کے والد نے اپنا ایچ آئی وی ٹیسٹ کرانے سے انکار کرتے ہوئے ہسپتال چھوڑ دیا، جس کے باعث تحقیقات میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق ایچ آئی وی کی منتقلی مختلف طریقوں سے ہو سکتی ہے، جن میں حمل یا زچگی کے دوران ماں سے بچے کو وائرس منتقل ہونا، غیر محفوظ خون کی منتقلی، آلودہ سرنجوں کا استعمال اور غیر محفوظ جنسی تعلقات شامل ہیں۔ اسی لیے متاثرہ مریضوں کے قریبی افراد کی اسکریننگ انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین صحت نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص اور اینٹی ریٹرو وائرل علاج سے مریض ایک معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں، جبکہ حاملہ خواتین کا بروقت علاج ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی کے خطرات کو بھی نمایاں حد تک کم کر دیتا ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایچ آئی وی سے متعلق غلط فہمیوں اور سماجی بدنامی سے گریز کریں، مشتبہ علامات یا خطرے کی صورت میں فوری ٹیسٹ کرائیں اور علاج کے لیے مستند طبی مراکز سے رجوع کریں۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اس کیس کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے پر مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔