آج کل گرمیوں کی چھٹیاں ہیں ۔ سب ہی کی کوشش ہے کہیں باہر نکلیں ۔ خاص کر پکنک پلان ہو رہی ہیں۔کوئی سمند کا رخ کر رہا ہے تو کوئی فارم ہاوس ۔
فارم ہاوس کے بجائے قدرت کا مزہ لیں
کراچی والے گھومنے کیلیے نام نہاد فارم ہاؤسز کا رخ کرتے ہیں جہاں ایک رات گزارنے کے لیے پچاس ہزار تک فیس وصول کی جاتی ہے جس میں دو ک تین کمرے لان میں بچوں کیلیے گیمز اور کیمیکل زدہ سوئمنگ پول ہوتا ہے
وہاں جا کر ہمارے بچے اور نوجوان نہ مظاہر فطرت سے روشناس ہوتے ہیں نہ چرند پرند کی ان آوازوں سے محظوظ ہوتے ہیں جسے سننا لتا کو سننے کے برابر ہے۔بس مغرب ہوتے ہی وہاں جا کر بریانی پر ٹوٹ پڑتے ہیں آدھی رات تک سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگا کر باربی کیو اور پھر صبح ہوتے ہوتے حلوہ پوری سے سیر ہوکر واپس اسی شہر کا رخ کرتے ہیں۔
صدی قبل کے شکار کا مزہ لیں
جسے کراچی کہا جاتا ہے۔اس سے بہتر حب ڈیم کے قریب وائلڈ لائف کے بنائے ہوئے اس شکار گاہ جائیے جہاں ایک بار پھر اسی دور میں پہنچ جائیں گے جب شکار روساء کا شوق تھا۔ تقسیم سے قبل انگریزوں کے ساتھ ساتھ مختلف ریاستوں کے نوابین اور مالدار کاروباری شخصیات خاص طور پر موسم سرما میں شکار پر ضرور نکلتے۔ اس زمانے میں تو سارا ہندوستان جنگلات سے بھرا تھا اور اس میں بےشمار جانور تھے۔ ان جنگلات میں انگریزوں کے بنائے ہوئے قدیم بنگلوں میں شکاری قیام کرتے تھے۔ بھارت میں تو جم کاربٹ پارک میں شکار کے لئے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان جنگلات میں صدیوں سے کھڑے بلند و بالا درخت اپنی ہیبت کے ساتھ وہ وقت دکھاتے ہیں. جب لوگ پرانی جیپوں میں بیٹھ کر لمبی لمبی گھاس کے میدانوں میں شکار کے لئے گھومتے تھے۔ کبھی اچانک کوئی ندی نالے کے پاس مگرمچھوں سے مڈبھیڑ ہو جاتی، کہیں دور ہاتھیوں کی چنگھاڑ دل دہلا دیتی اور اونچے ۔۔پیڑوں پر برسوں پرانے مچان رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں.
سندھ وائلڈ لائف ڈئیپارٹمنٹ
کراچی میں ہی جنگلی حیات کے ادارے کا دفتر پریس کلب سے فوارہ چوک کی جانب ایک قدیم عمارت ہوپ لاج میں ہے جہاں اصلی جانوروں کے مجسمے بھی ایک میوزیم کی صورت بتاتے ہیں کہ جنگل کو کس طرح محسوس کیا جائے وہاں عابد اور عادل نامی افسران سے معلومات کی جاسکتی ہیں

کراچی سے حب والئلڈ لائف سینچری تک کا سفر
منگھو پیر سے نکلنے والے راستے پر ایک مقام کھار سینٹر ہے جو ناظم آباد سے بذریعہ وین صرف دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ قدیم درختوں سے گھرے اس راستے میں بارش کے آثار ہوں تو مری کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
ایک اونچے ٹیلے پر دو تین کمرے بنے ہیں۔ جس کے اطراف جنگل پھیلا ہوا ہے راستے میں زرد پتھروں سے مرصع انگریز دور کے کھنڈرات بھی دکھائی دیتے ہیں یہاں چوکیدار اور خانساماں آپ کا استقبال کریں گے۔
سامان لے کر جائیں اور کھانا پینا اور ناشتے کا الگ ہی مزہ لیں
یاد رہے کہ اپنے ساتھ تازہ انڈے دودھ اور گوشت لے کر جائیں تو وہیں بہترین سالن بھی بنادیتے ہیں۔آس پاس ہرے بھرے درختوں سے برکھا بہار اتر آتی ہے۔ رات کے وقت ریسٹ ہاؤس کی حدود میں جانوروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ایک مکمل اندھیرا اور خاموشی جس میں بوندوں کی ٹپ ٹپ مسلسل جاری رہتی ہے۔رات گزارنے کیلیے بستر بھی مل جاتے ہیں فجر ہوتے ہی مور کی پی ہاؤ پی ہاؤ سے آس پاس کی فضا رقص کرنے لگتی ہے
ناشتہ کے بعد اگر آپ چاہیں تو گائیڈ کے ساتھ جنگل کی سیر کرنے جاسکتے ہیں بلند پہاڑ بادلوں کے گھیرے میں رہتے ہیں جن کے نیچے مار خور بھی دکھائی دے جاتے ہیں.
جگہ جگہ پانی کے چشمے پھولوں سے لدی جھاڑیاں پیڑوں پر جھولتی گلہریاں دھرتی کے گہرے رنگ اپنے بچوں کو دکھائیے.
یہاں کا ایک دن اور ایک رات پر فسوں۔سکون کی آمیزش اور سنسنی خیز گزرتا ہے یہاں حیوان پرندے سب قدرت کے قانون کے مطابق چلتے ہیں کراچی سے صرف دو گھنٹے کے بعد۔