loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
4-Aug-2026
19-Safar-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
4-Aug-2026
19-Safar-1448

کبھی وہ عام آدمی پارٹی کی ڈیجیٹل ٹیم کا ایک رکن تھا، پھر امریکا جا کر اپنی تعلیم مکمل کرنے والا ایک طالب علم، اور آج سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوانوں کے لیے مزاحمت، طنز اور سیاسی احتجاج کی علامت بن چکا ہے۔

کیا ابھیجیت دپکے واقعی ایک انقلابی ہے؟ کیا وہ صرف ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہے؟ یا پھر وہ اس نئی نسل کی نمائندگی کرتا ہے جو روایتی سیاست سے ہٹ کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی آواز بلند کر رہی ہے؟

یہ سوال آج بھارت میں شدت سے زیرِ بحث ہیں۔

ایک عام نوجوان سے سیاسی کارکن تک

ابھیجیت دپکے 29 ستمبر 1995 کو مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد (موجودہ چھترپتی سمبھاجی نگر) میں پیدا ہوئے۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے دپکے نے پونے سے صحافت کی تعلیم حاصل کی اور ابتدائی دور ہی سے میڈیا، سیاست اور عوامی رابطوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔

2020 سے 2023 کے دوران وہ عام آدمی پارٹی (AAP) کی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مہمات سے وابستہ رہے۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں نوجوان ووٹرز تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل مواد، میمز اور آن لائن مہمات تیار کرنے میں ان کا کردار رہا۔ اس عرصے میں انہوں نے یہ سمجھا کہ بھارت میں سوشل میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کا ایک طاقتور ہتھیار بھی بن چکا ہے۔

امریکا کا سفر

2023 میں دپکے اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا چلے گئے، جہاں انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں ماسٹرز کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کی زندگی نسبتاً معمول کے مطابق چل رہی تھی، لیکن چند ماہ بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے انہیں دوبارہ بھارتی عوامی مباحثے کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔

15 مئی 2026: ایک تبصرہ، جس نے بحث چھیڑ دی

15 مئی 2026 کو بھارتی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک ریمارک نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ عدالتی کارروائی سے متعلق اسی بحث نے دپکے کو بھی متحرک کیا، جنہوں نے اپنے انداز میں حکومت، عدالتی نظام اور جمہوری اقدار پر سوالات اٹھانے شروع کیے۔

ان کے طنزیہ انداز، مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہونے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک ایسے ڈیجیٹل چہرے کے طور پر ابھرے جسے حکومت کے ناقدین آزادیِ اظہار اور جمہوری مزاحمت کی علامت قرار دینے لگے، جبکہ مخالفین انہیں سیاسی پروپیگنڈا کرنے والا کارکن قرار دیتے ہیں۔

“کاکروچ پارٹی” اور احتجاج کی نئی علامت

دپکے کا نام اس وقت مزید نمایاں ہوا جب سوشل میڈیا پر “کاکروچ” کو ایک طنزیہ سیاسی استعارے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ بعد ازاں “Cockroach Party” یا “Cockroach Janata Party” کے نام سے ہونے والی علامتی سرگرمیوں اور آن لائن مہمات نے بھی توجہ حاصل کی۔

اس استعارے کا مقصد، حامیوں کے مطابق، یہ پیغام دینا تھا کہ جبر اور دباؤ کے باوجود اختلافِ رائے کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب ناقدین نے اسے سیاسی سنجیدگی کے منافی قرار دیا۔

نوجوانوں میں مقبول کیوں؟

دپکے کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کا اندازِ گفتگو ہے۔ وہ روایتی سیاسی زبان کے بجائے میمز، مختصر ویڈیوز، طنز اور پاپ کلچر کے حوالے استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کا مواد نوجوانوں تک تیزی سے پہنچتا ہے۔

ان کے حامی انہیں سیکولر، جمہوری اور آئینی اقدار کا حامی قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ ان کی سرگرمیاں سیاسی قطبیت کو مزید بڑھاتی ہیں۔

اختلافی شخصیت

ابھیجیت دپکے کے بارے میں رائے یکساں نہیں۔ ان کے حامی انہیں نئی نسل کی آواز، اظہارِ رائے کی آزادی کا نمائندہ اور ڈیجیٹل مزاحمت کا چہرہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف ناقدین انہیں ایک جماعت سے وابستہ سابق سیاسی کارکن سمجھتے ہیں، جن کی سرگرمیوں کو غیرجانبدار شہری تحریک کے بجائے سیاسی مہم کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے۔

اسی لیے ان کے بارے میں کوئی بھی تجزیہ کرتے وقت یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان کی شخصیت اور کردار پر مختلف سیاسی حلقوں کی آراء ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہیں۔

نئی سیاست کا نیا چہرہ؟

بھارت میں سیاست تیزی سے سڑکوں سے موبائل فون کی اسکرینوں تک منتقل ہو رہی ہے۔ اس نئی فضا میں ابھیجیت دپکے جیسے نوجوان یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آج کا سیاسی اثر و رسوخ صرف جلسوں، پریس کانفرنسوں یا پارلیمنٹ تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک وائرل ویڈیو، ایک میم یا ایک سوشل میڈیا مہم بھی قومی سطح پر بحث چھیڑ سکتی ہے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ابھیجیت دپکے مستقبل میں باقاعدہ سیاست کا حصہ بنتے ہیں یا نہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ بھارت میں ڈیجیٹل سیاسی سرگرمی، نوجوانوں کی مزاحمت اور آن لائن عوامی مباحثے کی نئی لہر کے نمایاں چہروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں