×

ایک طرف ہمارے سیاسی  راہ نما اپنے اپنے ایجئنڈے کے مطابق  عوامی فلاح و بہبود پر  زور دار تقریریں  اور بیانات دیتے نظر آتے ہیں ۔ لیکن  عملی طور پر دیکھا جائے  کہ تو سب بیانات تقریریں صرف باتیں ہی نظر آتی ہیں  کیونکہ25 فروری 2026 کو  سند ہ کابینہ   کی دوسرے دوسرے  پارلیمانی  سال مکمل ہونے  کی رپورٹ آپ کے سامنے ہے ۔ جو ہمارے سیاست دانوں اور   ارکان اسمبلی کی عوامی دلچسپی کی واضح مثال ہے ۔

 سب سے اہم  بات  کہہ صوبے  کے وزیر اعلی  نے  پورے پارلیمانی سال میں  کسی ایک  محکمے کےسوالات کا جواب  بھی نہیں دیا یہ ہی نہیں  بلکہ سندھ اسمبلی میں ایک بھی نجی بل پیش نہ ہوسکا اور 9 پرائیویٹ بل زیر التوا ہی رہے ۔ رپورٹ  یہ بھی بتاتی ہے کہ اسمبلی میں   کل 1096 سوالات  پیش کئے گئے ۔ جن میں سے کسی ایک کا بھی جواب   دینے کی زحمت ہی نہیں دی گئی ۔ 

ہمارے  پورے نظام  کا حال اتنا ہی سادہ ہے  کہ 168کےایوان میں سندھ اسمبلی کی 4  نشستیں خالی  ہوئی تھیں   وہ اس سال  خالی ہی رہیں ۔ جن میں  امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کراچی وسطی کی سیٹ ،  جی ڈی اےکے تین ارکان  راشد شاہ کنگری ضلع خیرپور دستگیر راجڑ سانگھڑ اور فوزیہ وقارمخصوص  نشست پر منتخب ہوئے،لیکن حلف نہیں لیا۔ یعنی ان   حلقوں  کی عوام اپنے مسائل لے کر کس کے پاس جائیں ۔ان کی آواز سنے والا کوئی نہیں۔

سندھ اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا   قواعد کےاعتبار سےسو دن پورے ہوئے لیکن عملا پورے پارلیمانی سال میں 56دن ایوان کی کاروائی چلی،  جبکہ 25دن چھٹیاں آئیں۔ ہم ستم ہی کہیں کہ 19دن سندھ اسمبلی اجلاس نہیں ہوئے ۔

ایک بھی نجی بل ایوان میں پیش نہیں ہوسکا، دوسرے پارلیمانی سال میں بھی سندھ اسمبلی کی چار  قائمہ کمیٹیوں کےالیکشن ہی نہیں ہوسکے ۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  دس ماہ میں ریکارڈ اجلاس کیےتفصیلات کےمطابق 24فروری 2026کو سندھ اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا۔

دیکھا جائے تو سندھ اسمبلی نےپہلے دو پارلیمانی سال کےدوران کل  49سرکاری مسودہ قوانین موصول ہوئے۔جن میں سے48ایوان سےمنظور ہوگئےجبکہ ارکان سندھ اسمبلی نے9پرائیوٹ بل بھی جمع کرائے  گئے ،مگر ایوان میں یہ  پیش نہیں ہوسکے۔دوسرے پارلیمانی سال میں اگرچہ سندھ اسمبلی نےقواعد کےمطابق سو دن مکمل کئے۔  

سندھ اسمبلی میں ارکان نےمختلف محکموں سےمتعلق 1096سوالات جمع کرائے جن میں سےسرکاری محکموں نےتاحال 500سوالات کےجوابات ارسال ہی نہیں کیے۔596سوالات کےجواب اسمبلی سیکریٹریٹ کو مل سکے ہیں تاہم وزیراعلی کےپاس موجود محکمہ خزانہ،توانائی خصوصی صلاحیتوں کو بااختیار بنانےکےمحکمے ،انسانی حقوق سمیت جیل خانہ جات معدنیات،سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کےسوالات بھی ایوان کےایجنڈا پر نہیں آسکے ۔

سندھ اسمبلی میں25سےزائد پارلیمانی سیکریٹریز تاہم نصف نےایوان میں اپنےمحکمے سےمتعلق کسی سوال کا جواب نہیں دیادوسرے پارلیمانی سال میں بھی سندھ اسمبلی میں چپ کا روزہ رکھنےوالےارکان لی معقول تعداد رہی جنھوں نےپورےپارلیمانی سال میں اپنےحلقے ،عوامی سیاسی انتظامی کسی مسئلےپر لب کشائی سےگریز رکھا سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے118ارکان لیکن اجلاسوں میں بیشتر مواقع پر نصف نشستیں خالی رہیں بہت ارکان سندھ اسمبلی ایسے تھے جنھوں نےرخصت کی درخواست اسپیکر کو بھیجی ہو۔

سندھ اسمبلی میں ارکان نےاستحقاق مجروح ہونےپر33تحاریک استحقاق جمع کرائیں۔ 11تحاریک استحقاق ضائع یا غیر موثر ہوئیں اور 11کو ایوان میں مسترد کردیا گیا ۔سندھ اسمبلی میں مختلف امور پر ارکان نے141تحاریک التوا جمع کرائیں۔ جن میں سےصرف چار پر بحث ہوئی ۔سندھ اسمبلی میں پارلیمانی سالوں کےدوران  جمع 393قراردادوں میں سے35منظور اور 305کو  پاس کردیا گیا ۔سندھ اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں کی صورت حال بھی عمومی رہی سندھ اسمبلی34قائمہ کمیٹیوں میں سےچار کے الیکشن ہی نہہں ہوئےفعال 30میں سےبیشتر قائمہ کمیٹیوں کا اجلاس بھی نہیں ہوا ۔

دوسرے پارلیمانی سال میں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کےقریبا49اجلاس ہوئے جبکہ پی اےسی دوسال میں ریکارڈ 105سےزائد اجلاس کرچکی ہےپی اےسی اجلاسوں میں بھی ارکان کی غیر حاضری ریکارڈ کی گئی جبکہ پارلیمانی سال کےآخری دو ماہ میں اختلافی وجوہ پر پی اےسی اجلاس ہی نہیں ہوئےسندھ اسمبلی کےدوسرے پارلیمانی سال میں حکومتی و اپوزیشن بینچز کےدرمیان بحث و تکرار جھگڑے روایتی واک آوٹ ہوئےجبکہ پارلیمانی سال کےآخری اجلاس میں اسمبلی کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہوا کہ ایم کیوایم رکن رانا شوکت نےاپنی ہی پارٹی کےرکن سندھ اسمبلی شارق جمال پر ایوان میں دھمکیاں دینےکا الزام عائد کیا گیا۔

اپنے خیالات کا اشتراک کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔