لبنان پر اسرائیل کی شدید بمباری،شہید ہونے والے افراد کی تعداد 254 تک جا پہنچی ۔
تہران/واشنگٹن
ابھی بات چیت شروع ہی ہوئی تھی اور امن کی سمت میں پہلا قدم اٹھایا ہی گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے مابین امن معاہدے کے مسودے پر اختلافات شروع ہوگئے۔ ‘دوہفتوں کی کمزور جنگ بندی ‘ لبنان پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے ۔ جس میں ‘طبی عملے کے 12افراد سمیت 254 شہید‘سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں ۔
جس کے بعد ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں آبنائے ہرمزدوبارہ بندکردی ہے اور دھمکی دی ہے کہ بغیر اجازت گزرنے والے جہازوں کو تباہ کردیا جائے گا۔ جواب میں امریکی صدر نے کہاہےکہ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں تھا‘ وہاں حزب اللہ موجود ہے ‘ اس کا بھی بندوبست کیاجائیگا ۔ لبنانی وزیر اعظم نے تمام دوست ممالک سے اسرائیلی کارروائیاں رکوانے کی اپیل کردی۔
ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے فرانسیسی ہم منصب میخواں سےفون پر گفتگو کے دوران لبنان میں جنگ بندی کو لڑائی کے خاتمے کیلئے کلیدی شرط قراردیدیااور کہاکہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو جنگ بندی ختم ہوجائےگی جبکہ میخواں نے امریکی اور ایرانی صدورپر زوردیاہے کہ وہ سیز فائر میں لبنان کو بھی شامل کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہناہے کہ امریکا کوسیزفائر یا اسرائیل کے ذریعے مسلسل جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا‘۔عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت بھی کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ ایران کے ساتھ ہواہے‘حزب اللہ سے جنگ جاری رہے گی ‘ اسرائیل ایران کے خلاف کسی بھی لمحے دوبارہ میدانِ جنگ میں اترنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ شہداءکا خون رائیگاں نہیں جائیگا‘اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کا حق حاصل ہے ‘۔
اسرائیل کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں جارحیت بند نہ کی تو وہ اس کا بھرپور جواب دیں گے‘امریکی وعدوں پراعتبار نہیں ‘ ہماری انگلی اب بھی ٹریگر پر ہے ‘ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف کے مطابق مذاکرات کے آغاز سے قبل 10 نکاتی تجاویز کی تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔

ترکیہ نے لبان پر جاری اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کردی جبکہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے لبنان میں اموات اور بربادی پر‘ترکیہ اوراسپین نے لبنان شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان کے شہریوں کے تحفظ کو ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی شرح کو “خوفناک” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس ابھرتے ہوئےڈراؤنے خواب کو ختم کرنے میں مدد کرے ۔
پاکستان کی ساری محنت اور تک و دو کے جواب میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ، نیتن یاہو کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان کو شامل کرنے پر بات چیت جاری رکھیں گے‘۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ پہلی 10ایرانی تجاویز ڈبے میں پھینک دیں‘ایران اور پاکستان سے دیگر 10نکات پر بات چیت ہورہی ہے ‘لبنان جنگ بندی اس میں شامل نہیں۔طنز کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ شاید ایرانی اسپیکر کو انگریزی نہیں آتی اسی لئے ان کو لبنان کے معاملے پر سمجھنے میں غلطی فہمی ہوئی ‘سیزفائر میں تھوڑی بہت خامیاں ہوتی ہیں‘ ایرانیوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیلیوں نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کو محدود کرنے کی پیشکش کی ہے‘ تہران کو اگلا قدم اٹھانا ہوگا ورنہ ٹرمپ کے پاس دوبارہ جنگ شروع کرنے کے تمام آپشنز موجود ہیں۔

‘ ایران ہمیں جتنا زیادہ دیگا ، مذاکرات سے اسے اتنا ہی زیادہ حاصل ہوگا‘اگر انہوں نے وعدہ خلافی کی توسنگین نتائج بھگتنا ہوں گے ۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی کہا ہے کہ لبنان اس ڈیل کا حصہ نہیں ہےمگرٹرمپ، نیتن یاہو کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان کو شامل کرنے کے تصور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ایران کو جوابدہ ٹھہرائیں گے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین جنگ بندی کی شرائط واضح اور صریح ہیں‘امریکا کوسیزفائر یا اسرائیل کے ذریعے مسلسل جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ وہ دونوں ایک ساتھ نہیں رکھ سکتا۔
