کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری محکموں، خودمختار کارپوریشنز، نیم خودمختار اداروں، بلدیاتی کونسلز اور سندھ اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے مختص 5 فیصد سرکاری ملازمتوں کے کوٹے پر عملدرآمد کا آڈٹ شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (ایس اینڈ جی اے ڈی) نے بورڈ آف ریونیو، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، آئی جی سندھ پولیس، سندھ اسمبلی سمیت تمام صوبائی محکموں اور ان کے ماتحت اداروں کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔
مراسلے میں گریڈ ایک سے 16 تک کی منظور شدہ آسامیوں، موجودہ ملازمین، خالی آسامیوں، اقلیتوں کے لیے مختص پانچ فیصد کوٹے اور اس کے تحت تعینات ملازمین کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ تمام محکموں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر اقلیتی کوٹے کی کوئی آسامی خالی ہے تو اس کی وجہ بھی تحریری طور پر بتائی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکموں نے اپنے ماتحت دفاتر اور انتظامی افسران سے مطلوبہ ڈیٹا طلب کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ متعدد اداروں نے اپنی رپورٹس محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو ارسال بھی کر دی ہیں۔
محکمہ انکوائریز اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق فٹ کانسٹیبل (گریڈ 5) کی 30 منظور شدہ آسامیوں میں سے 20 خالی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس پوسٹ پر اقلیتی کوٹے کے تحت تقریباً ڈیڑھ نشست بنتی ہے، تاہم اس پر کوئی تقرری نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2011 سے بھرتیوں کا عمل نہ ہونے کے باعث یہ آسامیاں تاحال خالی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دیگر محکموں کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد سندھ حکومت اقلیتی کوٹے پر عملدرآمد کی جامع رپورٹ تیار کرکے متعلقہ فورمز پر پیش کرے گی۔ اس جائزے کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ سرکاری اداروں میں اقلیتوں کے لیے مختص پانچ فیصد ملازمتی کوٹے پر کس حد تک عملدرآمد ہوا ہے، کتنی آسامیاں پُر ہیں، کتنی خالی ہیں اور جہاں کوٹہ مکمل نہیں ہوا وہاں اس کی وجوہات کیا ہیں۔