کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی میں کمی آنے سے سرمایہ کاروں کا رجحان محفوظ سرمایہ کاری, جیسے سونے سے ہٹ کر دیگر شعبوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی صرافہ بازار میں فی تولہ سونے کی قیمت میں کمی کے بعد یہ 4 لاکھ 94 ہزار 662 روپے کی سطح پر آ گئی، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 24 ہزار 92 روپے ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جہاں فی اونس سونا 95 ڈالر سستا ہو کر 4723 ڈالر پر آ گیا۔
اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی 300 روپے سستی ہو کر 7884 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سیاسی استحکام اور جنگی خطرات میں کمی کا براہ راست اثر قیمتی دھاتوں کی طلب پر پڑتا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق جب عالمی سطح پر کشیدگی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اس کی خریداری بڑھا دیتے ہیں، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور انہوں نے سونے کی خریداری کم کر دی، نتیجتاً قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔
مزید برآں، عالمی مالیاتی منڈیوں میں استحکام، ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور شرح سود میں ممکنہ رد و بدل بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسے درآمدی ممالک میں عالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین ہوتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور خطے میں امن و استحکام قائم رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔ تاہم کسی بھی نئی کشیدگی یا غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔
عوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں اس کا براہ راست فائدہ صارفین کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور عالمی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یوں ایران امریکا جنگ بندی کے اثرات نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی میدان میں بھی نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں، جن میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
