×

واشنگٹن/اسلام آباد: امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ  نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کو سفارتکاری کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ “مکالمے اور بات چیت کی فتح” ہے۔

ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے سفیر نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال کرنے میں سہولت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پیچیدہ تنازعات بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔

سفیر کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور مذاکرات کی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے، جس میں مختلف سفارتی چینلز اور بیک ڈور رابطوں نے اہم کردار ادا کیا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ایک عارضی جنگ بندی ممکن ہو سکی۔ اس پیش رفت کو خطے میں بڑے تصادم سے بچاؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سفیر رضوان سعید شیخ نے مزید کہا کہ سفارتکاری ایک محنت طلب  عمل ہے۔ جس میں وقت، صبر اور اعتماد سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

دوسری طرف اقوام متحدہ سمیت عالمی برادریوں نے بھی اس جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے اور مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات ضروری ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ بندی سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوئی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں، جن میں تیل کی رسد، عالمی تجارت اور مالیاتی منڈیوں میں استحکام شامل ہے۔

یوں پاکستان کے سفیر کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتکاری نے ایک بار پھر جنگ پر برتری حاصل کی ہے، اور یہ پیش رفت خطے میں دیرپا امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنے خیالات کا اشتراک کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔