متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ امراضِ جگر نے بتایا ہے کہ جگر کی بیماریاں برسوں تک خاموشی سے بڑھتی رہتی ہیں اور کئی افراد کو اس وقت تک اپنی بیماری کا علم نہیں ہوتا جب تک جگر شدید متاثر نہ ہوجائے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے ماہرین جگر کے مطابق جگر میں درد محسوس کرنے والے اعصابی ریشے موجود نہیں ہوتے جبکہ یہ عضو اپنی حیرت انگیز صلاحیت کے باعث 70 سے 80 فیصد تک متاثر ہونے کے باوجود بھی معمول کے مطابق کام کرتا رہتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ فیٹی لیور اور جگر کی دیگر بیماریاں 10 سے 30 سال تک بغیر کسی واضح علامت کے خاموشی سے بڑھ سکتی ہیں جس کے باعث بروقت تشخیص نہ ہونے پر مریض جگر کے ناکارہ ہونے، سروسس اور اور حتیٰ کہ جگر کی پیوندکاری تک کی نوبت تک پہنچ سکتی ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق اب یہ بیماری صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ موٹاپے، زیادہ وزن، ذیابیطس اور میٹابولک سنڈروم کے باعث نوجوانوں میں بھی جگر کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ مٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس میں اضافے کے ساتھ فیٹی لیور کے کیسز بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں جس کے نتیجے میں مستقبل میں سروسس اور جگر کی پیچیدہ بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔