loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
30-Aug-2026
16-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
30-Aug-2026
16-Rabi' al-Awwal-1448

پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور اغوا سمیت دیگر جرائم کے اعداد و شمار جاری کردیے گئے۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کی جنوری سے جون 2026 کے دوران بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق ششماہی رپورٹ کے مطابق  بچوں سے زیادتی ، اغوا اور دیگر جرائم سے متعلق صوبہ پنجاب سے 80 فیصد، سندھ سے 15 فیصد جبکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے مجموعی طور پر 5 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق مجموعی متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے تھے۔ عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کے 598 بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ 16 سے 18 سال کے 356 بچے، 6 سے 10 سال کے 329 اور 5 سال تک کے 95 بچے متاثرین میں شامل تھے۔ 487 کیسز میں متاثرہ بچوں کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے مجموعی طور پر 1914 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 49 ایسے نومولود بھی شامل تھے جنہیں سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا تھا۔1015 بچوں کے جنسی استحصال، 558 اغوا، 101 گمشدگی اور 35 کم عمر شادیوں کے کیسز درج کیے گئے جبکہ 98 ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں جنسی زیادتی کے بعد پورنوگرافی کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 43 فیصد کیسز میں ملزمان متاثرہ بچوں کے واقف کار تھے جبکہ 34 فیصد میں ملزمان اجنبی تھے۔ 13 فیصد کیسز میں ملزم کی حیثیت کا ذکر نہیں تھا۔

تقریباً 45 فیصد واقعات متاثرہ بچوں کے اپنے گھروں میں، 18 فیصد ملزمان کے گھروں میں اور 3 فیصد کھلے میدانوں میں پیش آئے جبکہ 21 فیصد کیسز میں وقوعہ کی جگہ بیان نہیں کی گئی۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں