پاکستان نے آئی ایس آئی کے حوالے سے بنگلادیش کی مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کے بیٹے کے الزامات کو یکسرمسترد کردیا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا اگرچہ انہوں نے حسینہ واجد کے بیٹے کا بیان نہیں دیکھا تاہم پاکستان آئی ایس آئی کے حوالے سے لگائے گئے تمام الزامات کومسترد کرتا ہے۔ حسینہ واجد اور موجودہ بنگلا دیشی حکومت کے درمیان تنازع پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
حسینہ واجد کے بیٹے کے متنازع بیان پر ترجمان دفترخارجہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارت میں آئی ایس آئی کا خوف پایا جاتا ہے شاید وہ وہ بھی اسی انفکیشن کا شکار ہوگئے ہیں۔ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان سفارتی روابط معمول کے مطابق جاری ہیں اور یہ کسی ایک بیان یا واقعے تک محدود نہیں۔ سفارتی ذرائع سے رابطے بدستور برقرار ہیں۔
عوامی لیگ کی سربراہ اور بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے نئی دہلی میں فارن کورسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام ایک تقریب سے ورچوئل خطاب میں کہا تھا کہ وہ دسمبر میں بنگلا دیش جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اس تقریب میں ویڈیو لنک کے ذریعے ان کے صاحبزادے اور سیاسی مشیر سجیب واجد جوئے نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بنگلہ دیش میں کھلی چھوٹ حاصل ہے اور یہ ملک کے داخلی معاملات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی حکومت اور حکمران جماعت بی این پی نے نئی دہلی میں شیخ حسینہ کو میڈیا سے خطاب کی اجازت دیے جانے پر انڈیا کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔