۔کراچی کا چھبیس برس کا نوجوان میر رضا مصطفیِ زیدی کے اس شعر کی عملی تصویر بنا ہوا ہے
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
27جولائی کو صبح چار بجے گھر سے روانہ ہونے والے نوجوان کی29جولائی کو تشدد زدہ لاش ملی۔
آج تقریبا دس دن بعد بھی بجائے قاتلوں کا تعین ہونے کے اب تک یہ فیصلہ ہی نہیں ہوسکا کہ یہ قتل ہے یا خودکشی۔ پولیس ہر صورت اس کیس کو خود کشی قرار دینے پر مصر ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ ایک ہائی پروفائل کیس میں پولیس ایسا کیوں کررہی ہے؟ کس کو بچانا مقصود ہے؟
گذشتہ روز میر رضا کے والدین نے دل پر پتھر رکھتے ہوئے ۔ ایک بار پھر پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی کی اجازت دی ۔لیکن ساتھ میں یہ بھی واضح کیا کہ جو میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔لیکن پولیس نے راتوں رات نیا نوٹیفیکشن تیار کیا جس میں ڈاکٹر سمعیہ سید کے علاوہ تمام پینل تبدیل کردیا گیا جس میں سے ایک ڈاکٹر جامشورو اور ایک حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔
ظاہر ہے سندھ پولیس کی پھرتیوں پر حیران و پریشان والیدین نے قبر کشائی سے انکار کردیا۔جس کے بعد اب قبر کشائی اور میڈیکل بورڈ کا معاملہ عدالت سے طے ہونے کے توقع ہے۔
سوال پھر وہی کہ ان سب اقدامات سے پولیس کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جیسے ہی نئے پوسٹمارٹم کا حکم دیا گیا۔ تو وہ گولی کا خول جو دس روز سے تلاش کیا جارہا تھا۔ صرف دس منٹ میں مل گیا۔ کیا پولیس نے جائے وقوعہ سے مٹی کے نمونے حاصل کیے جس سے اندازہ ہو کہ میر رضا کا قتل/خودکشی کا مقام وہی ہے؟ یا اسے کہیں اور قتل کرکے لاش پھینکی گئی۔ کیونکہ جائے وقوعہ پر خون کی مقدار بہت کم تھی جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ اسے قتل کرکے لاش وہاں پھینکی گئی۔
واقعے کی انکوائری کرنے والی ٹیم کے حوالے سے آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا پولیس نے اس کیس پر بہت محنت کی ہے۔ لیکن ہر شخص حیران ہے کہ یہ محنت کیس حل کرنے کے بجائے بگاڑنے پر کیوں کی گئی۔ پولیس جتنی جلدی اس کیس سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہے اتنا ہی یہ مزید الجھتا اور سندھ پولیس کے لیے بدنامی کا باعث بنتا جارہا ہے۔
والد میر حسین کے مطابق جناح اسپتال میں ایک گھنٹے کے اندر پوسٹمارٹم مکمل کرکے لاش ان کے حوالے کردی گئی۔ ایک ہائی پروفائل کیس کا پوسٹ مارٹم ایک گھنٹے کے اندر ؟ کیا یہ ممکن ہے؟ واقعے کو کور کرنے والے رپورٹرز کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کو ایسے مکمل کیا گیا جیسے یہ کسی چرسی کی لاش ہو جو آئے روز ملتی رہتی ہیں۔
یہ ہی نہیں بلکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ڈاکٹر اسامہ نے تیار کی ۔جس میں بارہا یہ ذکر ہے کہ تصویر دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا کہ گولی سینے پر لگی۔ لاش تشددو نہیں بلکہ ڈیئی کمپوزیشن کا شکار ہوئی۔ کیا پوسٹ مارٹم کے لیے صرف تصاویر لے لیں گئیں؟ فزیکل پوسٹ مارٹم نہیں ہوا؟ دس دن بعد بھی قتل یا خودکشی؟ کا سوال صرف اس لیے ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گن پاوڈر اور گولی کے اینٹری ایگزٹ کے شواہد لیے ہی نہیں گئے۔
میر کے والدین ہی نہیں شہری بھی اپنے آپ کو بے دست و پا محسوس کررہے ہیں۔ میر کے والد نے قبر کشائی سے روکنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے۔میرے بیٹے کی لاش کا مذاق بنا دیا گیا ہے۔
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں