loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

ایران نے پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پر بیان میں  پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے نئے مشترکہ دفاعی معاہدے پر تنقید کی ہے۔

ابراہیم رضائی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کو وہ سکیورٹی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا جس کی ریاض توقع کر رہا ہے۔ سعودی عرب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ کیا جانے والا کاغذی معاہدہ اسے تحفظ فراہم نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ماضی میں بھی کئی دہائیوں تک امریکا پر انحصار کرتا رہا لیکن اس انحصار کے باوجود اسے مکمل تحفظ حاصل نہیں ہو سکا۔ سعودی عرب اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے تاکہ ملک کو سکیورٹی کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ معاہدے کے مطابق ایک ملک کے خلاف جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں