loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
29-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
29-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

میر رضا کیس میں والدین کو رپورٹ موصول ہوگئی ہے۔ ایڈووکیٹ جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میر رضا کے والدین کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ کیس کی تحقیقات کے لیے بہتر اور قابل پولیس افسران پر مشتمل ٹیم فراہم کی جائے۔

جبران ناصر کے مطابق والدین موجودہ تفتیشی ٹیم پر اعتماد نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ میر رضا کی موت کے معاملے کی تحقیقات شفاف، غیرجانبدار اور میرٹ پر کی جائیں۔

میر رضا کیس میں ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جبکہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میر رضا کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں جبکہ سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات بھی سامنے آئے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس سرجن کی جانب سے اٹھائے گئے تمام 14 نکات کے جوابات بھی موصول ہوگئے ہیں، جنہیں کیس کی تفتیش میں شامل کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر 17 سیمپلز حاصل کیے گئے۔ ان میں سے 4 نمونے ڈی این اے جانچ کے لیے جبکہ دیگر سیمپلز کیمیکل ایگزامن کے لیے حاصل کیے گئے ہیں۔ میر رضا کے والدین سے دو ریفرنس سیمپلز بھی لیے گئے ہیں، جن سے ڈی این اے کا موازنہ کیا جائے گا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق قبر کشائی کے دوران حاصل کیے گئے تمام نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں اور پیر کے روز تمام سیمپلز جامعہ کراچی کی فارنزک لیب میں جمع کرائے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمیکل ایگزامن اور ڈی این اے رپورٹس کے نتائج 3 سے 4 روز میں متوقع ہیں۔ قبر کشائی کا عمل ماہرین کی نگرانی میں تقریباً 3 گھنٹے تک جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ خاندان کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کیس کی تفتیش ایسے افسران کے سپرد کی جائے جن پر والدین کو اعتماد ہو، تاکہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاسکے اور اصل حقائق سامنے آسکیں۔

میر رضا کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ اور طبی شواہد پہلے ہی زیرِ بحث ہیں، جبکہ خاندان مسلسل شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں