جب چھوٹے چھوٹے شوق ہی زندگی تھے۔زندگی ایسے چل رہی تھی کہ ہمیں معلوم بھی نہیں تھا کہ ہمارے یہ شوق معدوم ہوتے جائیں گے ۔آج اتنی عمر گزارنے کے بعد ہم پوچھ سکتے ہیں کہ کیا آپ اپنے بچوں میں اپنا کوئی شوق منتقل کر پائے لیکن بڑاسوال یہ بھی کہ ان جین زی کوکیا ہمارے والے شوق پالنے چاہیں ؟
لیکن ہم تو اپنی بات کریں گے کہ بھائیوں اور بہنوں ہر ایک کا بچپن ہمیشہ سی دلفریب اور دلکش ہوتا ہے ۔ چاہیے وہ امریکا مین رہے یا چین میں ، وہ چیچوں کی ملیا کا باسی ہو پنڈی کا رہائشی ،آپ کے ہمارا سب کا بچپن سادہ لیکن ہر دم متحرک تھا ۔ میں آج آپ کے اور اپنے بچپن کا قصہ چھیڑتئ ہوں ۔جس میں ہم ہر دم کھیل میں مست ملنگ تھے ۔
چلیں مشغلے پر بات کرتے ہیں ۔ہم میں سے اکثر کا بچپن کسی نہ کسی مشغلے کے ساتھ گزرا ہوگا۔ اس وقت تو ہمیں یہ کوئی مشغلہ نہیں لگتا تھا ہاں بس اچھا لگتا تھا یہ سب کرنا ۔
ہم میں سے کوئی بچوں کے رسالے پڑھنے کا شوقین تو کوئی ڈائری لکھتا تھا اور اس میں رنگ برنگی تصویریں بھی چپکاتا تھا۔ ہمارے سب بھائی بہنوں کے پاس ایک ڈائری تھی ۔
یہ سب ہمیں اس لئے یاد آیا کہ کئی مہینوں بعد ہماری اسکول ڈائری با تھ لگی ۔ ہم نے سنبھال کر سب رکھی ہوئی ہے اپنی ڈائیری ، عید کارڈ اور خط بھی ۔ لیکن ڈائیری ہاتھ میں لی تو ہنسی آنے لگی کہ کیا کیا کچھ نہیں اس میں ، ہم میٹرک میں تھے لہذا کوئی شعر اچھا لگا ، کسی اداکار ،کسی کھلاڑی کی منگی اور شادی کی تصاویر دوستوں کے انٹرویو ۔بس ایک دنیا تھی !
لڑکے گلیوں میں کرکٹ کھیلتے تھے، تو لڑکیاں گھر گھر کے کھیل میں مگن رہتی تھیں لیکن اس میں ہم کاروبار بھی کرتے اور الیکشن الیکشن بھی۔ بلکہ ہم نے گلی کے لڑکیوں اور لڑکوں کا الیکشن کرایا تھا ۔ ہم نے باقاعدہ نہیں بلکہ ہماری بڑی بہن نے لڑکیوں کی کمپین سنبھالی اور بھائی اپنی صنف کا ساتھ دیتے ہوئے مخالف پارٹی کے ساتھ تھے ۔ آج بھی یاد ہے کہ پرچیاں بنیں ۔ ہم نے بھی ووٹ کاٹ کاٹ کر دئیے ۔ زیر تعمیر گھر پولینگ بوتھ بنااور جوتے کا ڈبہ بیلٹ بکس بنا تھا ۔ یہ ہی نہیں ہماری گلی کی لڑکیاں اتنی زور آور تھیں کہ انھوں نے میدان مار لیا ۔ لیکن وہ ھی انتخابی دھاندلی ہمارے بھائی سمیت امیدوار لڑکا بیلٹ باکس عرف جوتے کا ڈبہ لے کر بھاگ گیے ۔ معملہ بڑوں تک پہنچا اور شاہدہ عرف موٹی کو گلی کا نو منتخب صدر مان لیا گیا ۔ اب ان کی مرضی سے گلی میں کھیل منعقد کئے جائیں گے اور لڑکے اپنا کھیل اس وقت تک کھیلیں گے جب تک لڑکیاں اجازت دیں گی۔
۔خیر وہ ایک ایسا رنگین بچپن تھا جس کی یاد آج بھی چہرے پر مسکراہٹ لے آتی ہے۔
چلیں اپنے موضوع پر واپس آتے ہیں ۔جس طرح ہماری ڈائیری ہاتھ لگی اس ہی طرح پچھلے دنوں ہمارے مرحوم والد محترم محمد بشیر صدیقی کے شوق کا چھوٹا سا خزانہ بھی ہم نے بچوں کو دیکھایا ۔ جس میں والد صاحب کی دلچسپی کی چیزیں جیسے پرانے کیسٹ ، ایک چوٹا سا ریڈیو، سکے ،پوسٹ کارڈ، ان کی پاکٹ ڈائیری جس میں ان کا روزآنہ کا حساب کتاب ساتھ ہی رشتےداروں اوراقربا کے نمبر درج تھے ۔ یہ ہی نہیں ان کی ٹائیز اور کھڑیاں بھی موجود ہیں۔ بچپن میں وہ ڈبہ ابا کی امانت تھا، جسے ہاتھ لگانے کی بھی ہمیں اجازت نہیں تھی۔
آج سوچوں تو اس بچپن میں ہمارے پاس فرصت کہاں تھی؟ کبھی چھت پر چڑھنا، کبھی آم یا کیریاں توڑنا، اور دوپہر کو جب ابا آرام کرتے تو خاموشی سے رسالے پڑھنا یا کوئی اور پُرسکون مشغلہ اختیار کرنا۔
آج جب وہ ڈبہ کھلتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب صرف سکے ، خط ،پوسٹ کارڈ اور ٹیپ ریکارڈ نہیں، ہیں بلکہ یادوں کی ایک پوری دنیا محفوظ ہو۔اس میں طرح طرح کے اور قدیم سکے بھی ہیں ۔ جونادر بھی ہیں اور نایاب بھی ۔
پچھلے دنوں وہ بکس کھولاگیا اور ہم نے سارے سکے بچوں کے ساتھ مل کر دھوے ۔ ہماری کوشش تھی کہ یہ ایک شوق تیسری نسل میں منتقل کرنے کی پہلی کوشش تھی ۔
اب آپ بتائیں..کیا آپ نے بھی کبھی سکے، ڈاک ٹکٹ، پرانے نوٹ یا کوئی اور یادگار چیز جمع کی ہے؟ اگر ہاں، تو وہ آج بھی آپ کے پاس محفوظ ہے؟
ان شوق کی وجہ سے ہم کہاں کہاں کامیاب ہوئے اور کن کن مشکل جگہوں نے ان شوق کی وجہ سے ہمیں عزت دلائی۔۔۔۔؟
آپ اپنے بچپن کی یادیں ہمیں بتائیں اورکیا آپ بھی اپنے والدین میں سے کسی کے شوق کے وارث ہیں ، یہ جائیداد آپ نے کیسے سنبھال کر رکھی ہے ؟