مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے مقدمے کا ریکارڈ انسداد دہشت گردی کی عدالت سے طلب کرلیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مقتول کی والدہ وجیہ عامر نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقدمے کی جلد سماعت شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
مصطفیٰ عامر جنوری 2025 میں کراچی سے لاپتا ہوئے تھے۔ تلاش کے دوران ان کی گاڑی سے متعلق شواہد سامنے آئے، جبکہ بعد ازاں پولیس تحقیقات میں ان کے قتل کا انکشاف ہوا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا اور مقدمہ درج کیا۔ کیس کو بعد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کیا گیا۔
اہلخانہ کی جانب سے ابتدا ہی سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ وجیہ عامر کے مطابق ان کے بیٹے کو قتل ہوئے ڈیڑھ سال گزر چکا ہے، تاہم کیس کی باقاعدہ سماعت تاحال شروع نہیں ہوسکی۔
وجیہ عامر نے الزام عائد کیا کہ ملزمان مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث مقدمے کی سماعت آگے نہیں بڑھ سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے کی جلد سماعت شروع کرنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں نظام سے کوئی امید نہیں، لیکن انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ مصطفیٰ عامر کی والدہ نے مزید کہا کہ وہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں اور ان کے بیٹے کے قتل کے تمام شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے کی جلد سماعت شروع کرنے کا حکم دیا جائے۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے کیس کا ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد مقدمے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔