loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
29-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
29-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟ مختصر الفاظ میں دوسری جنگ عظیم کے انقلاب کے بعد سب سے بڑا انقلاب ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا نیا نقشہ بنا۔ سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے ہوئے۔ مشرق وسطیٰ میں بھی تقسیم در تقسیم ہوئی ۔

یوں طے پایا کہ آدھی دنیا سوویت یونین کی ہے آدھی امریکا بہادر کی۔ دونوں دنیاؤں بہت سے ملک اور بہت سی قومیں آباد تھیں۔ کہنے کو یہ سب آزاد تھیں۔ اِقتدارِ اعلیٰ ان کا اپنا تھا لیکن کتنا اور کیسا؟ اِس میں بہت کچھ ناگفتنی ہے۔

کہنے کو بہت کچھ کہا جاتا تھا لیکن بہت کچھ کہنے کی اجازت نہیں تھی۔ بس، یہی آزادی تھی اور یہی اقتدارِ اعلیٰ۔ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد یہ سب کچھ ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ کچھ ٹوٹ گیا ہے اور کچھ ٹوٹ جائے گا اور مسلم دنیا اس معاہدے کے بعد اپنی قسمت کے فیصلے خود کرے گی۔ اپنے عہد کا ہی نہیں، یہ تاریخ کا بہت بڑا انقلاب ہے۔
اِس لیے جلدی سے اس نتیجے پر چھلانگ لگا لی جائے تو کوئی ہرج نہیں کہ معرکہ ٴحق ہو یا مشرق وسطیٰ کی جنگ، اِن کے بطن سے جو سب سے بڑا خیر برآمد ہوا ہے،

حفیظ جالندھری نے کہا تھا:
اہل زباں کہاں مانتے تھے حفیظ
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
اِن جنگوں کے جبڑے سے یہ کامیابی آسانی سے برآمد نہیں ہوئی بلکہ اِس کے لیے بہت محنت کرنی پڑی جس میں پاکستان اور اُس کی سول و ملٹری قیادت کا کردار کلیدی ہے۔ یہ ایسے ہی نہیں ہو گیا کہ ولی عہد شہزادہ کو فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سیلیوٹ مارا تو ولی عہد نے بھی جواب میں اسی انداز میں سیلیوٹ مارنا ضروری سمجھا اور سعودیہ اور ترکیہ کی قیادت نے وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ اصرار کرکے انھیں کھڑا کیا۔

دیکھا جائے توجو لوگ اس انتظام کو پاکستان کی داخلی صورت حال کا شاخسانہ سمجھتے ہیں، وہ قومی سیاست کو درست طور پر سمجھ پائے ہیں اور نہ مکہ ایگریمنٹ کے غیر معمولی تاریخی واقعے کو۔ خیر یہ بحث طویل ہے۔ ذکر یہ تھا کہ پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ نے یہ کامیابی دشمن کے جبڑوں سے چھینی ہے۔ کیسے؟
دو امور ایسے ہیں جو اس سوال کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنگ کے دوران دشمن نے کوشش کی کہ اس کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر سعودی عرب جنگ میں کود پڑے۔ یہ بہت نازک مرحلہ تھا۔ سعودی عرب نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحمل سے کام لیا۔ اس طرح اسرائیل اور امریکا کی بھڑکائی ہوئی جنگ میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔

خیر، یہ معاملہ تو ایک سازش تھا لیکن اس حقیقت میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایران نے سعودی عرب وغیرہ پر حملے کیے بھی ہیں۔ ان حملوں کی نوعیت دل چسپ تھی۔ سعودی عرب سمیت بعض دیگر عرب ملکوں پر ایرانی حملوں کا ایک خاص مقصد تھا۔ مقصد یہ تھا کہ یہ ملک امریکا پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس جنگ کا خاتمہ کرے اور خطے سے نکل جائے۔ جیسا کہ بعض لوگوں کو یقین ہے کہ سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ملک امریکی اتحادی ہیں، ‘اتحادی’ کی حیثیت سے یہ ملک ایران پر جوابی حملہ کر دیتے تو ان لوگوں کو کوئی حیرت نہ ہوتی البتہ امریکا، اسرائیل اور اسرائیل نواز لنڈسے گراہم جیسے لوگوں کے من میں لڈو ضرور پھوٹتے کہ ان کے من کی مراد بن آئی۔ ایسا نہیں ہوا بلکہ سعودی عرب وغیرہ نے وہی کیا جو ایران چاہتا تھا یعنی ایران پر جوابی حملے نہیں کیے گئے اور امریکا پر دباؤ بھی ڈالا گیا کہ وہ جنگ بند کرے اور خطے سے نکل جائے۔ یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے جسے بین الاقوامی حرکیات کے ماہرین نے زیر بحث لانے سے گریز کیا ہے۔
سعودی عرب نے اسے مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ بنانے کی سازش کو ناکام بنا کر دوسرا کام وہ کیا جو ایران چاہتا تھا۔ ایران چاہتا تھا کہ امریکا خطے سے نکل جائے۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ سعودی عرب نے ایران کی خواہش پوری کی ہے یا وہ خود ہی اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ امریکا کو خطے سے نکل جانا چاہیے، اس نے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ وہ جن مقاصد یعنی ہمارے تحفظ کے لیے خطے میں آیا تھا، وہ انھیں پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اس لیے خطے میں اس کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں رہا لہٰذا اب عرب دنیا سے اسے اپنے پر پرزے سمیت کر نکل جانا چاہیے۔ یہ پیغام امریکا کو دے دیا گیا ہے اور اس نے امکانی طور پر خطے میں نئے اڈے کے لیے جگہ کا انتخاب بھی کر لیا ہے، یہ اسرائیل ہے۔ گویا امریکا اب اسرائیل تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے نتیجے میں جنم لینے والی عسکری قوت امریکا کے نکل جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرے گی۔ یہ تبدیلی صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں پوری دنیا کی تزویراتی سیاست کو بدل دے گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے مشرق وسطیٰ کے خد و خال ماضی کے مشرق وسطیٰ سے مختلف ہوں گے۔ سعودی عرب کی قیادت میں جو نیا مشرق وسطیٰ ظہور میں آ رہا ہے، اس پر ایران کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ کئی معنوں میں اس کی خواہش ایران کو بھی تھی۔

مکہ دفاعی معاہدے کے مضمرات بے شمار ہیں۔ اس کا تعلق مشرق وسطیٰ کی صورت حال خاص طور پر فلسطین کے معاملے سے ہے۔ اسرائیل کی توسیع پسندی سے ہے اور پاکستان کے خلاف بھارت کے جارحانہ عزائم سے ہے۔ یہ سب پہلو اہم ہیں اور ان پہلوؤں پر گفتگو ہوتی رہے گی لیکن لمحہ موجود میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے اور کیا ایران اس کا واقعی مخالف ہے؟ حالات نے اس مفروضے کے حق میں ابھی تک کوئی ایک گواہی بھی پیش نہیں کی۔

اس معاہدے کا ایک اور پہلو پاکستان کو ملنے والی اہمیت ہے۔ پاکستان واقعی خطے کی اہم ترین قوت بن کر ابھرا ہے۔ اسی طرح اس اتحاد کے تین ملک یعنی پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ اس اتحاد کے بعد ایک غیر معمولی عالمی قوت کے طور پر ابھرے ہیں۔ تاریخ میں اس کامیابی کے لیے وزیر اعظم پاکستان، فیلڈ مارشل، ولی عہد اور ترک صدر کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں