loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
29-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
29-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عام طور پر صحت بخش سمجھی جانے والی غذائیں پالک، بادام اور شکر قندی آنتوں کی سوزش بڑھا سکتی ہیں۔

امریکا کے یو این سی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق پودوں سے حاصل ہونے والی غذاؤں میں قدرتی طور پر پایا جانے والا مرکب آکسیلیٹ آنتوں کی سوزش سے متاثرہ افراد میں سوزش کو مزید بڑھانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

سیلولر اینڈ مالیکیولر گیسٹرونٹیرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے اس بیماری کے مریضوں اور صحت مند افراد کے آنتوں کے ٹشوز، خوراک اور فضلے میں آکسیلیٹ کی مقدار کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ چوہوں اور خلیوں پر بھی تجربات کیے گئے۔

محققین کے مطابق صحت مند افراد میں خوراک سے حاصل ہونے والا زیادہ تر آکسیلیٹ فضلے کے ذریعے جسم سے خارج ہوجاتا ہے۔ تاہم آئی بی ڈی کے مریضوں میں آنتوں کے مخصوص ٹرانسپورٹر پروٹینز ایس ایل سی 26 اے 2 اور ایس ایل سی 26 اے 3 کی مقدار نمایاں طور پر کم پائی گئی۔

یہ پروٹینز آنتوں سے آکسیلیٹ کے جذب اور اخراج کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ کمی السرٹیو کولائٹس اور کروہن ڈیزیز دونوں کے مریضوں میں دیکھی گئی۔ آنتوں کے ٹشوز میں سوزش جتنی زیادہ تھی ان ٹرانسپورٹر پروٹینز کا اظہار اتنا ہی کم پایا گیا۔

محققین کے مطابق یہ نتائج اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ بعض غذائی اجزا آئی بی ڈی کے مریضوں میں آنتوں کی سوزش پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر آئی بی ڈی مریض کو پالک، بادام یا شکر قندی سمیت آکسیلیٹ والی غذائیں لازماً ترک کردینی چاہئیں۔ خوراک میں تبدیلی کے لیے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ ضروری ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں