loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
29-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
29-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

نیب کراچی نے سرکاری اراضی کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے ضلع ٹھٹہ کے علاقے دھابیجی میں 435 ایکڑ سرکاری اراضی کی غیر قانونی لیز منسوخ کرا دی۔

ترجمان نیب کے مطابق مذکورہ اراضی انتہائی قیمتی سرکاری اثاثہ ہے، جس کی تخمینہ مالیت تقریباً 2 ارب 61 کروڑ روپے بنتی ہے۔ نیب کراچی کی مداخلت اور انکوائری کے نتیجے میں سندھ حکومت کے متعلقہ محکمے نے غیر قانونی لیز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

نیب ترجمان کے مطابق سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن سندھ نے 20 اگست کو 435 ایکڑ سرکاری اراضی کی غیر قانونی لیز منسوخی کا باقاعدہ حکم جاری کیا۔ اس اراضی کو مختلف قانونی اور انتظامی مراحل کے بعد دوبارہ حکومت سندھ کی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

نیب کے مطابق معاملہ اس وقت انکوائری کا حصہ بنا جب اراضی کی لیز میں جعلی دستاویزات کی بنیاد پر غیر قانونی توسیع کیے جانے کے شواہد سامنے آئے۔ نیب کراچی نے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے ریکارڈ حاصل کیا اور سرکاری اراضی کے قانونی اسٹیٹس کا جائزہ لیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ انکوائری کے دوران یہ معاملہ سامنے آیا کہ سرکاری ملکیت کی 435 ایکڑ اراضی کی لیز میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے توسیع کی گئی تھی۔ نیب کی مداخلت کے بعد متعلقہ محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن نے لیز منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا۔

نیب کراچی کے مطابق اراضی اب حکومت سندھ کے قبضے میں واپس آ چکی ہے اور اسے تمام تجاوزات سے پاک کر دیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سرکاری زمین کسی بھی غیر قانونی قبضے، لیز یا منتقلی کے ذریعے نجی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

ترجمان نیب نے مزید کہا کہ سرکاری اثاثہ جات کا تحفظ ادارے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ نیب کراچی قانون کے مطابق احتساب اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

دھابیجی میں 435 ایکڑ اراضی کی لیز کی منسوخی کو سرکاری زمین کے تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ نیب کے مطابق کارروائی کا مقصد نہ صرف سرکاری اراضی کو واپس حاصل کرنا ہے بلکہ ایسے معاملات میں قانون کی عملداری اور سرکاری اثاثوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔

نیب نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اراضی سے متعلق غیر قانونی سرگرمیوں اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے معاملات کی قانون کے مطابق تحقیقات جاری رہیں گی۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں