loader-image
Karachi, PK
temperature icon 36°C
14-Oct-2026
2-Jumada al-Awwal-1448
☰
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 36°C
14-Oct-2026
2-Jumada al-Awwal-1448

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے غیر معیاری کاسمیٹکس پر پابندی کا بل منظور کرلیا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس  پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس  میں پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل پر بحث کے بعد اسے منظورکرلیا گیا۔ وزیربرائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ کینسر غیرمعیاری رنگ گورا کرنیوالی کریموں سے ہورہا ہے۔ ای کامرس کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے جبکہ آن لائن خریدوفروخت میں ٹیکس چوری کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کاہ کہ کاسمیٹکس میں مرکری کا استعمال ہوتا رہا جو جلد کے کینسر کا سبب بنتا ہے، قانون سازی اور معیار نہ ہونے کے باعث کاسمیٹکس ایکسپورٹ بھی نہیں کی جاسکتیں جبکہ کاسمیٹکس بنانے والے ارب پتی بن چکے ہیں۔ قانون سازی اور اتھارٹی نہ ہونے کے باعث غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے والے عدالتوں سے بھی بری ہو جاتے ہیں۔

رضاحیات ہراج نے کہا کہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں بھینسوں کو دودھ کیلئے آکسیٹوسن انجکشن لگائے جاتی ہے اس انجکشن کی وجہ سے ان بھینسوں کو بھی کینسر ہورہا ہے، پاکستان میں کاسمیٹکس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

وفاقی وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی نے کہا بل کے تحت ایک اتھارٹی بنے گی جو کاسمیٹکس کو ریگولیٹ کرے گی۔ کاسمیٹکس کی ایکسپورٹ کیلئے اسٹینڈرڈ بنانے کی ضرورت ہے، قانون سازی سے غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور امپورٹ پر سزا ہو سکے گی۔

بل پر بحث کے بعد کمیٹی نے منظوری دے دی  جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور امپورٹ کرنے پر سات سال قید کی سزا ہو سکے گی۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں